خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 455
خطبات مسرور جلد 13 455 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء تھی ان سب کے نام اس جگہ لکھ دیئے جائیں۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1931 صفحہ 107-106) لدھیانہ کا گھر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے پاس ہے وہاں جماعت نے کس حد تک اس پر عمل کیا ہے، اس پر کیا ہورہا ہے، اس کا ریکارڈ اس وقت میرے پاس نہیں ہے بہر حال پتا لگ جائے گا۔تو اس کو یادگار بنانے کی کوشش بہر حال کی جارہی ہے۔پیشگوئی مصلح موعود کی اہمیت پھر لدھیانہ اور پیشگوئی مصلح موعود کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ کے سامنے جنت کے انگوروں کا ایک خوشہ لایا گیا ہے اور پھر آپ کو بتایا گیا کہ یہ ابو جہل کے لئے ہے۔اس کی تعبیر یہ تھی کہ اس کے بیٹے عکرمہ کو جنت ملے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پھر آپ نے واقعہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے لڑکے کو ایسا نیک کیا کہ اس نے دین کے لئے شاندار قربانیاں کیں۔ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔عیسائی تیرانداز تاک تاک کر مسلمانوں کی آنکھوں میں تیر مارتے تھے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم شہید ہوتے جاتے تھے۔عکرمہ نے کہا مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا۔( یہ ابو جہل کے بیٹے تھے۔) اور اپنی فوج کے افسر سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ان پر حملہ کروں اور ساٹھ بہادروں کو ساتھ لے کر دشمن کے لشکر کے قلب پر (مرکز میں جاکے ) حملہ کر دیا اور ایسا شدید حملہ کیا کہ اس کے کمانڈر کو جان بچانے کے لئے بھاگنا پڑا جس سے دشمن کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔یہ جان بازایسی بہادری سے لڑے کہ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو تمام کے تمام یا تو شہید ہو چکے تھے یا سخت زخمی پڑے تھے۔حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سخت زخمی تھے۔ایک افسر پانی لے کر زخمیوں کے پاس آیا اور اس نے پہلے عکرمہ کو پانی دینا چاہا۔مگر آپ نے دیکھا کہ حضرت سہیل بن عمر پانی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔آپ نے اس افسر کو کہا کہ پہلے سہیل کو پانی پلاؤ پھر میں پیوں گا۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میرا بھائی پیاس کی حالت میں پاس پڑا ر ہے اور میں پانی پی لوں۔وہ سہیل کے پاس پانی لے کر پہنچا تو اس کے پاس حارث بن ہشام زخمی پڑے تھے۔سہیل نے کہا کہ پہلے حارث کو پانی پلا ؤ۔وہ حارث کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔پھر وہ واپس سہیل کے پاس آیا تو وہ بھی وفات پاچکے تھے اور جب وہ عکرمہ کے