خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 454
خطبات مسرور جلد 13 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء صرف کر دیا انہوں نے بھی لکھا کہ تیرہ سو سال کے عرصے میں کسی نے اسلام کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی اس (ماخوذ از الفضل 15 مارچ 1934 ، صفحہ 6 جلد 21 نمبر 110 ) شخص نے کی ہے۔آجکل بھی مختلف نام نہاد اسلامی ٹی وی چینل اسی حوالے سے بڑی باتیں کرتے ہیں کہ اُس وقت خدمت کی ضرورت تھی۔لیکن بعد میں نعوذ باللہ بگڑ گئے۔لیکن اصل میں تو یہ لوگ وہ ہیں جو دلوں کے اندھے ہیں اور جس کو خدا تعالیٰ نے سونا بنایا ہے اسے یہ لوگ پیتل سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کی طرف دیکھنے کی بجائے یہ لوگ اپنے نفسوں کے اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں اور کم علم رکھنے والے مسلمانوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو عقل دے دار البیعت لدھیانہ کی اہمیت ایک دفعہ جب 1931 ء کی شوریٰ میں دار البیعت لدھیانہ کا ذکر ہوا۔تو حضرت مصلح موعود نے وہاں نمائندگان کو کہا کہ " میرے نزدیک یہ ( یعنی دار البیعت لدھیانہ کا معاملہ ) نہایت اہم معاملہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت سے اس کا ذکر کیا ہے بلکہ لدھانہ کو باب لد قرار دیا ہے جہاں درقبال کے قتل کی پیشگوئی ہے۔(وہ جگہ جہاں دشمنوں کا خاتمہ ہوگا، دجال کا خاتمہ ہوگا) ایسے مقام کے لئے جہاں قادیان سے بیعت لینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے گئے جماعت میں (اس جگہ کا ) خاص احساس ہونا چاہئے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جب آپ سے بیعت لینے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا یہاں نہیں بیعت لی جائے گی۔( یعنی قادیان میں نہیں لی جائے گی ) پھر لدھیانہ میں بیعت لی۔وہاں کے پیر احمد جان صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے ہی فوت ہو گئے وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو خدا نے دعوی سے پہلے ہی آپ پر ایمان لانے کی توفیق دی (جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے۔انہوں نے اپنی وفات کے وقت اپنے سب خاندان کو جمع کیا اور کہا کہ حضرت مرزا صاحب مسیحیت کا دعوی کریں گے تم سب ایمان لے آنا۔چنانچہ یہ سب خاندان ایمان لے آیا۔پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب آپ کے لڑکے ہیں اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ان کی لڑکی ہیں۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) میرا ارادہ ہے کہ اس مقام کا خاص طور پر نقشہ بنایا جائے اور بیعت کے مقام پر ایک علیحدہ جگہ تجویز کی جائے اور نشان لگا دیا جائے اور اس موقع پر وہاں جلسہ کیا جائے۔چالیس آدمیوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ بیعت لی