خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 431

خطبات مسرور جلد 13 431 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء موعود علیہ السلام کی رائے کو الہام نے رد کر دیا ہے۔( یعنی یہ جو الہام تھا لَا تَقْتُلُوا زَيْنَب۔اس کا مطلب یہ تھا کہ جو مشورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے وہ اللہ کو پسند نہیں آیا بلکہ دوسرا رشتہ جو اس کے خلاف تھا وہ پسند آیا۔بہر حال انہوں نے اپنی اس بیٹی کی شادی مصری صاحب سے کر دی۔چنانچہ یہ الہام 9 فروری 1908ء کو ہوا اور 17 فروری 1908ء کو شیخ مصری صاحب کا نکاح زینب سے کر دیا گیا۔( حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ) یہ تاریخ اس طرح محفوظ رہی کہ مصری صاحب کا نکاح دو اور نکاحوں سمیت اسی دن ہوا تھا جس دن کہ ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح ہوا تھا اور وہ 17 فروری تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صاف کہہ دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو اور مصری صاحب سے نکاح نہ کرو ورنہ یہ نکاح اسے منافق بنانے کا نتیجہ پیدا کر دے گا ( یا ہلاکت کا نتیجہ پیدا کر دے گا یا قتل کرنے والی بات ہوگی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو شاید اس زینب کے متعلق اسے سمجھا ہی نہیں اور لڑکی کے باپ نے الٹ نتیجہ نکالا۔حالانکہ خدا تعالیٰ کا منشاء اس الہام سے یہ تھا کہ اس شخص سے ایک بھاری فتنہ پیدا ہونے والا ہے ( کیونکہ بعد میں مصری صاحب سے فتنہ پیدا ہوا۔) اس سے زینب کی شادی نہ کرو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو۔پھر اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ احمد اللہ صاحب کو یہی مشورہ دیا تھا۔چنانچہ جب مصری صاحب جماعت سے علیحدہ ہوئے ہیں تو ( حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ) پیر منظور محمد صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ احمد اللہ صاحب کو کہا تھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب سے شادی نہ کی جائے۔مگر جب حافظ صاحب نے اس بات کو نہ مانا اور اسی جگہ لڑکی کی شادی کر دی تو مجھے سخت غصہ آیا۔( یہ بیان کیا پیر منظور محمد صاحب نے ) اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ حضور خدا تعالیٰ کے مامور ہیں اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب مامور ایک بات کہہ دے تو تمام مومنوں کو چاہئے کہ اس پر عمل کریں مگر حافظ احمد اللہ صاحب نے حضور کی نافرمانی کی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔بات تو آپ نے جو کہی ہے یہ ٹھیک ہے مگر ایسے معاملات میں میں دخل نہیں دیا کرتا۔( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں) جب یہ روایت مجھے پہنچی تو گو اس روایت میں مجھے کوئی شبہ نہیں ہوسکتا تھا مگر چونکہ یہ اکیلی روایت تھی اس لئے اس بات کا فکر ہوا کہ کوئی اور گواہ بھی ہونا چاہئے۔ان کے جماعت چھوڑنے کی اور اس فتنے کی جو ساری background تھی اس کی وجہ سے آپ چاہتے تھے کہ اس کا ٹھوس ثبوت ملے۔تو بہر حال کہتے ہیں ) خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ دوسرے دن کی ڈاک میں