خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 432
خطبات مسرور جلد 13 432 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء مجھے ایک خط ملا جو نشی قدرت اللہ صاحب سنوری کی طرف سے تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ 1915ء میں جب میں قادیان آیا تو اس وقت مجھے کسی دوست سے قرآن پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ میں نے حافظ احمد اللہ صاحب سے قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ایک دن باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اپنی لڑکی زینب کا رشتہ کسی اور شخص سے کرنے کا کہا تھا مگر انہی دنوں آپ پر یہ الہام نازل ہوا کہ لَا تَقْتُلُوا زینب۔جس سے میں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رائے صحیح نہیں اور میں نے شیخ مصری صاحب سے رشتہ کر دیا۔مگر اب شیخ مصری مجھے بہت سخت تنگ کرتا ہے۔( یہ ان کے سسر نے کہا) اور اس نے مجھے بڑی بڑی تکلیفیں پہنچانی شروع کر دی ہیں جس سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم نہ ماننے کا نتیجہ ہے۔چنانچہ ( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں) مجھے بھی یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں شیخ مصری صاحب نے بازار میں اپنے خسر کو مارا جس پر حضرت خلیفہ اول مصری صاحب سے سخت ناراض ہو گئے اور میں نے کئی دن آپ کی منتیں کر کے انہیں معاف کروایا۔پس اس الہام کے یہ معنی تھے کہ تم زینب کی شیخ مصری سے شادی مت کرو ورنہ اس کا ایمان بھی برباد ہو جائے گا۔چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ اس شادی سے اس کا ایمان بھی ضائع ہو گیا۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 579 تا 581) مصری صاحب کے بارے میں بہت سوں کو نہیں پتا ہوگا کہ یہ کون تھے اور ان کا کیا قصہ ہے۔یہ تاریخ کا بھی ایک حصہ ہے اس لئے تھوڑی سی وضاحت کر دیتا ہوں۔شیخ عبدالرحمن مصری صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی حجیسا کہ ظاہر ہے۔پڑھے لکھے تھے۔پھر یہ مصر گئے اور ان کو مصر بھیجنے کا خرچ بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور چوہدری نصر اللہ خان صاحب نے دیا۔مصر جانا جہاں ان کے لئے دوسرے فوائد کا باعث بنا وہاں مصر جانے کی وجہ سے شیخ مصری کہلانے کا بھی ذریعہ بنا۔اس وجہ سے ان کو شیخ مصری کہا جاتا تھا۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 579) بہر حال ایک ایسا وقت آیا جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے اختلاف کیا اور اختلاف کی وجہ سے آپ کے خلاف بہت کچھ کہنے لگے۔جماعت میں فتنے کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے جہاں جماعت کو وسیع پیمانے پر فتنے سے محفوظ