خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 430
خطبات مسرور جلد 13 430 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء بمطابق 24 وفا 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان فرمودہ بعض واقعات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ سے متعلق ہیں بیان کروں گا۔تذکرہ میں 9 فروری 1908ء کی تاریخ کے تحت ایک الہام لکھا ہوا ہے۔اس دن کے آٹھ الہامات ہیں۔ایک الہام یہ ہے۔لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ“۔(تذکرۃ صفحہ 635 ایڈیشن چہارم 2004ء) اس کی واقعاتی وضاحت بعض حالات کے مطابق ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ 1908ء کے شروع میں حافظ احمد اللہ خان صاحب مرحوم کی دولڑکیوں کی شادی کی تجویز ہوئی جن میں سے بڑی کا نام زینب اور چھوٹی کا نام کلثوم تھا۔زینب کے متعلق اور بھی بعض لوگوں کی خواہش تھی۔(ان کا ایک رشتہ شیخ عبدالرحمن مصری سے بھی آیا ہوا تھا۔) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی شادی مصری صاحب سے ناپسند کی (کہ زینب کی شادی اس سے نہ ہو۔لیکن آپ کی عادت یہ نہیں تھی کہ بہت زیادہ زور دیں۔آپ نے زور نہیں دیا۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ لَا تَقْتُلُو از ینب۔کہ زینب کو ہلاک مت کرو۔حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم نے دوسرے شخص کو کسی نہ کسی وجہ سے نا پسند کیا اور یہ خیال کیا کہ اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشورہ غلط ہے وہاں شادی نہ کی جائے بلکہ مصری صاحب سے شادی کی جائے اور خیال کیا کہ حضرت مسیح