خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 13 407 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء اس کو میں سزا دینے والا ہوں لیکن پھر کیا صورت ہوتی ہے۔” پھر جب شخص مجرم تو بہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے۔بعض دفعہ اطلاع بھی ہو جاتی ہے، سزا بھی مل جاتی ہے، مقدر ہو جاتی ہے، فیصلہ ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ شخص جس کے بارے میں فیصلہ ہوا ہے تو بہ کر رہا ہے، استغفار کر رہا ہے تو پھر سزا سے بیچ بھی سکتا ہے۔تو فرمایا کہ تو رحمت الہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر مجوب ومستور کر دیتا ہے۔اسے چھپا دیتا ہے۔اس پر پردہ ڈال دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔یہی معنی ہیں اس آیت کے کہ عَذَابِي أُصِیبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: 157 )۔یعنی رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی (تحفه غزنویہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 537) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ) میری رحمت غضب پر حاوی ہو گئی۔پس مجرموں کو بھی ان کے تو بہ استغفار سے اللہ تعالیٰ بخشتا ہے۔جو بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ان کے لئے سزا مقدر ہو جاتی ہے ان کو بھی بخش دیتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایسے مجرموں کو بھی جن پر عذاب لازم ہو گیا جب وہ زاری کریں تو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے بلکہ بعض پر عذاب کی اپنے فرستادوں کو خبر بھی دے دیتا ہے (جیسا کہ میں نے کہا ) لیکن پھر مجرم کی زاری جو ہے ، اس کا تضرع ہے، اس کا رونا پیٹنا ہے، استغفار کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچ لیتا ہے۔تو بہر حال مومن کا یہ مقام نہیں ہے کہ پہلے قانون الہی سے بغاوت کرے اور پھر آہ وزاری کرے اور پھر رحمت تلاش کرے۔مومنوں کے بارے میں دوسری مثال ہے۔اور دوسری قسم کی رحمت اعمال کے ساتھ مشروط ہے اور اس کا وعدہ نیک کام کرنے والوں اور تقویٰ پر چلنے والوں کے ساتھ مشروط ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: 57)۔یعنی یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت محسنوں کے قریب ہے۔محسن کے معنی ہیں جو دوسروں سے نیک سلوک کرے۔تقویٰ پر چلنے والا ہو۔علم رکھنے والا ہو۔تمام شرائط کے ساتھ اس کام کو پورا کرنے والا ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان لوگوں کے قریب ہے جو جان بوجھ کر گناہ کرنے والے نہیں ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کو اپنے گناہوں کی سزا کے خوف سے ہمیشہ پکارتے رہتے ہیں اور اپنے گناہوں کی سزا