خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 406
خطبات مسرور جلد 13 406 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء کے ہوتی ہے۔انسان اس کو حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص تر ڈ دیا کوشش نہیں کر رہا ہوتا۔اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ہے کہ رحمتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْئي (الاعراف: 157)۔کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے تمام لوگ حصہ لے رہے ہیں۔بغیر کسی عمل کے ان کو اس رحمت سے حصہ مل رہا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بارے میں یوں فرمایا ہے کہ : ” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی صفت عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے۔یعنی یہ مفت قانون الہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے اور اس کے لئے ضرور ہے کہ اول قانون الہی ہو اور قانون الہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہو اور پھر یہ صفت ظہور میں آتی ہے اور اپنا تقاضا پورا کرنا چاہتی ہے“۔جنگ مقدس روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 207) پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے ان پر رحم کرتا ہے لیکن جب قانون الہی سے تجاوز کرنے پر انسان غضب یا سزا کا مورد بنتا ہے۔چھوٹی موٹی غلطیوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف کرتا چلا جاتا ہے لیکن جب انتہائی حد سے بڑھنا شروع کر دے تب پھر خدا تعالیٰ کی عدل کی صفت یا جو دوسری صفت ہے وہ کام کرتی ہے لیکن عموماً اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے۔بعض دفعہ عدل کا یا قانون الہی کو توڑنے کا تقاضا ہوتا ہے کہ سزا ملے لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی رحم کرتے ہوئے بخش دیتا ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ یہ کیفیت مومنوں کے لئے نہیں ہے۔جو حقیقی مومن ہیں ان کا مقام کچھ اور ہے۔ایمان کا تقاضا توان ایمانی حالتوں کو درست رکھنا اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی حتی المقدور کوشش کرنا ہے۔اور سب کوششوں کے باوجود کسی بشری کمزوری کی وجہ سے گناہ سرزد ہو جائے تو پھر اگر حقیقی ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس گناہ کو ڈھانک لیتی ہے نہ کہ جیسا کہ میں نے پچھلے کسی خطبے میں کہا تھا کہ انسان گناہوں پر دلیر ہوتا چلا جائے اور یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، کوئی پرواہ نہیں۔تو یہ باتیں خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والی ہیں۔اس بات کو واضح فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح اس کے غضب کو ڈھانک لیتی ہے۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخص مجرم کو سزا دے اور بسا اوقات اس تقاضا سے اپنے مسلمین کو اطلاع بھی دے دیتا ہے۔یعنی اپنے فرستادوں کو، انبیاء کو جن پر الہام کرتا ہے ان کو بتا دیتا ہے کہ فلاں شخص دلیر ہوتا جارہا ہے 66