خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 408
خطبات مسرور جلد 13 408 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء کے خوف سے اس کی یاد دل میں رکھتے ہیں۔وہ لوگ جو جان بوجھ کر گناہ کرنے والے نہیں ہیں بلکہ انجانے میں اگر کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے پکارتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر نازل ہوتی ہے۔ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ وہ دعائیں قبول فرماتا ہے۔اس پر کوئی زبردستی نہیں ہے، نہ کوئی کر سکتا ہے کہ ضرور بالضرور اس نے ہماری دعائیں قبول کرنی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رحم محسنین کے ساتھ ہے۔ان لوگوں کے ساتھ ہے، ان پر ہوتا ہے جو تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔ان لوگوں کے ساتھ ہے جو دوسروں سے نیکیاں کرنے والے اور ان کے حق ادا کرنے والے ہوں۔پس اگر دعائیں قبول کروانی ہیں تو پھر محسن بننا ضروری ہے اور محسن کے ان معنوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے محسن بننا ضروری ہے۔پس یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔عام نیکیاں کر کے انسان محسن نہیں بن سکتا بلکہ یہ مقام حاصل کرنے کے لئے اپنے اعمال کو اعلیٰ معیاروں تک لے جانا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حسن کی تعریف فرمائی ہے اس کو اگر انسان دیکھے تو خوف سے پریشان ہو جاتا ہے کہ کیا ہماری عبادتوں کی یہ حالت ہوتی ہے۔ہر کام کرتے ہوئے جو بھی کام ہم کر رہے ہیں ہماری یہ حالت ہوتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف فرمائی ہے۔اور وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن وہ ہے جو ہر نیک کام کرتے ہوئے یہ دیکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔یہ بات سامنے رکھے۔یا کم از کم خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبی الله عن الایمان والاسلام والاحسان، وعلم الساعة حديث نمبر (50) اب یہ حالت ہماری عبادتوں کی بھی ہو اور ہمارے دوسرے کام سرانجام دیتے وقت بھی ہو تو کبھی غلط کام ہو ہی نہیں سکتا۔کبھی تقویٰ سے ہم ادھر اُدھر ہو ہی نہیں سکتے کبھی کسی کے ساتھ برا سلوک کر ہی نہیں سکتے کبھی کسی کا حق مار ہی نہیں سکتے بلکہ کسی کو نقصان پہنچانے اور اس کا حق مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔پس اسلام کے احکامات تو ایسے ہیں کہ کسی طرف سے بھی ان پر عمل شروع کریں یا اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو پکڑیں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی حکم کو دیکھیں یا ارشاد کو دیکھیں تو وہ سب کوگھیر کر اکٹھا کر کے ہمیں جس طرف لے کے جائیں گے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ہم خواہش تو بہت کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں بھی قبول ہوں اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بھی وارث ہوں اور اس کے مورد