خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد 13 397 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو ایک پاک جماعت کے قیام کے لئے آئے تھے آپ نے اپنی شرائط بیعت میں دوسری شرط میں خاص طور پر خیانت نہ کرنے اور اس سے بچنے کا ہم سے عہد لیا ہے۔(ماخوذ ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564-563) ہر برائی چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ برائی ہے لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو دوسری برائیوں کو بھی جنم دیتی چلی جاتی ہیں اور خیانت بھی ان میں سے ایک ایسی برائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خیانت کی عادت پھر اپنی امانتوں اور فرائض کی ادائیگی سے بھی خیانت کرواتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خائن نہ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حقوق ادا کرنے والا ہو سکتا ہے، نہ ہی بندوں کے حقوق ادا کرنے والا۔ایک خائن شخص لاکھ کہتا پھرے کہ میں نمازیں پڑھنے والا ہوں عبادت کرنے والا ہوں لیکن جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ عبادت کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے اور تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنا۔حقوق کی ادائیگی میں خیانت جو ہے وہ تقوی سے دور لے جاتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آدمی خائن بھی ہو اور تقویٰ پر چلنے والا بھی ہو اور حقوق ادا کرنے والا بھی ہو۔نتیجہ ایسے شخص کی عبادتیں بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔عابد بننا تو بہت بڑی بات ہے، ایک خائن تو ایمان لانے والا بھی نہیں کہلا سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 320 مسندابی هریرة حدیث نمبر 8577مطبوعه بيروت1998ء) پس ایمان کی نشانی سچائی ہے اور امانت کی ادائیگی ہے۔اس لئے ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ بری عادتیں ہوسکتی ہیں لیکن ایک مومن میں یہ دو عادتیں نہیں ہوسکتیں۔جو جھوٹ بولنے والا اور خیانت کرنے والا ہے وہ مومن ہے ہی نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 397 مسندابو امامة الباهلی حدیث نمبر 22523 مطبوعه بيروت 1998ء) امانتوں کا حق ادا کرنے اور خیانت سے بچنے کا مضمون بڑا وسیع مضمون ہے اور ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کی اہمیت اور وسعت کو سمجھے۔اور اس کو سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بڑی وضاحت سے روشنی ڈالتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین باتوں کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔نمبر ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت۔دوسرا یہ کہ ہر