خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد 13 398 مسلمان کے لئے خیر خواہی۔تیسرے یہ کہ جماعت کے ساتھ مل کر رہنا۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء (سنن الدار مى المقدمه باب الاقتداء بالعلماء حدیث نمبر 236 مطبوعه بيروت لبنان 2000ء) پس اس میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے۔بندوں کے حق بھی ہیں اور جماعت سے وفا کا حق بھی ہے۔یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں عبادت کے علاوہ وہ تمام ذمہ داریاں بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والوں پر ڈالی جاتی ہیں۔عہد یداروں کے سپردان کی جو امانتیں کی گئی ہیں اپنی ان امانتوں کا حق ادا کرنے کا جائزہ اگر ہر انسان خود لے، ہر خدمت کرنے والا خود لے اور خدا تعالیٰ کا تقویٰ سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لے تو پھر خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کس حد تک اس امانت کا وہ حق ادا کر رہا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا کہ اگر تم اپنے بھائیوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے تو یہ بھی خیانت ہے۔تمہاری زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے جو تمہاری ذمہ داری ہے تم اس کا حق ادا نہیں کر رہے اور حق ادا نہ کر کے خیانت کے مرتکب ہورہے ہو۔(سنن الترمذى كتاب البر والصلة باب ما جاء فى شفقة المسلم حديث (1927) بلکہ ایک روایت میں یہاں تک ہے کہ ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسان بھی محفوظ رہیں۔(سنن الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فى ان المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده حدیث نمبر 2627) پس ہرانسان کے حقوق کی ادائیگی ایک مسلمان پر فرض ہے اور اس حق کی ادائیگی نہ کرنا اسے خائن بنادیتا ہے۔پھر ایک احمدی کے لئے جماعتی نظام کی پابندی اور اپنے عہد بیعت کو نبھانا ضروری ہے۔جماعت کا ہر فرد اپنے اپنے اجتماعوں میں یہ عہد دہراتا ہے کہ وہ نظام جماعت کا پابند رہے گا۔پس یہ عہد بھی ایک امانت ہے اور اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اسے پورا کرنا ضروری ہے۔خلافت سے وابستگی اور اطاعت بھی ضروری ہے۔یہ عہد میں دہرائی جاتی ہے۔امانتوں کے حق ادا کرنے میں گھریلو باتوں میں سے یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ لڑکا لڑکی جب شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے ان کے کچھ حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادا ئیگی ایک امانت ہے۔اور ان میں خاوند کے ذمہ جو امانت ہے اس میں مثلاً عورت کا حق مہر ہے جو اسے ادا کرنا چاہئے۔بہت سارے معاملات آتے ہیں کہ جب جھگڑے پڑ جائیں تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ حق