خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 13 396 اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء (ملفوظات جلد 2 صفحه 65-64) اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے“۔یعنی پیدائش کا مقصد یہی ہے۔فرمایا ” جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، بجی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔“ پھر فرمایا : ” پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔فرمایا کہ میں اس لئے بار بار اس ایک امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 184-183 ) پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔مجھے جب بعض کارکنان اور عہدیداروں کے بارے میں یہ شکایت ملتی ہے کہ وہ نمازوں میں ست ہیں۔مسجد میں نہیں آتے یا بعض ایسے ہیں کہ گھروں میں بھی نہیں پڑھتے اور ان کی بیویاں شکایت کر رہی ہوتی ہیں تو اس بات پر بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔پس ہمیں اپنی عبادتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔اور جب تقویٰ نہ ہو تو پھر انسان نہ خدا تعالیٰ کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی اس کی مخلوق کے حق ادا کر سکتا ہے، نہ ہی جماعت کے لئے کوئی کار آمد وجود بن سکتا ہے، نہ ہی اس کے کام میں برکت پڑسکتی ہے۔پس ہمیں ہر وقت ہوشیار رہ کر اپنی عبادتوں کی نگرانی اور حفاظت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے چلے جائیں اور روحانی ترقیات بھی حاصل کرنے والے ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ کا ہمیں ایک حکم ہے فرمایا کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا الله وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الانفال : 28) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جبکہ تم اس خیانت کو جانتے ہوگے۔پس یہ بہت توجہ طلب اور اہم حکم ہے۔خیانت صرف بڑی باتوں یا بڑے کاموں میں ہی نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور کاموں سے لے کر بڑی بڑی باتوں اور کاموں سب پر حاوی ہے۔