خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 13 388 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء سے جھگڑے ختم ہو جا ئیں اور پیار اور محبت کی فضا پیدا ہو جائے۔بہت سارے معاملات آتے ہیں جن جن گھروں میں ایسی ناچاقیاں ہیں انہیں ان دنوں میں خاص طور پر غور کرنا چاہئے اور بجائے ضد اور آنا کے اپنے گھروں کو بسانے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر یتیموں کی خبر گیری بھی ایک بہت اہم فریضہ ہے۔ان کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ان کے حق کی ادائیگی کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی ہے کہ فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والے جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح دو انگلیاں اکٹھی ہیں۔(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الاحسان الى الارملة والمسكين و اليتيم حديث 2983) یعنی ہمارا بہت قریب کا ساتھ ہوگا۔پس اس اہمیت کو جماعت کے افراد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور یتامی کی خبر گیری کے لئے خرچ کرنا چاہئے۔جماعتی طور پر بھی اس کا انتظام موجود ہے۔پھر ضرورتمندوں اور مسکینوں کے حقوق ہیں جس میں تعلیم کے اخراجات ہیں۔علاج معالجہ کے اخراجات ہیں۔شادی بیاہ کے اخراجات ہیں۔جماعت میں ان سب اخراجات کے پورے کرنے کے لئے علیحدہ فنڈ بھی جاری ہیں۔ان میں بھی صاحب حیثیت لوگوں کو جن کو توفیق ہے جماعتی نظام کے تحت خرچ کرنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رشتہ دار اور قریبی ہمسایوں کے حقوق ادا کرو۔پس اس میں وہ ہمسائے بھی آ جاتے ہیں جو قریبی رشتہ دار ہیں، جو قریب رہنے والے ہیں اور وہ بھی جن کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات ہیں۔اور پھر فرمایا کہ ایسے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو جن کو تم اچھی طرح جانتے نہیں۔ان میں وہ ہمسائے بھی آ جاتے ہیں جو ہمارے قریبی ہمسائے نہیں ، دُور کے ہمسائے ہیں اور وہ ضرورتمند ہمسائے بھی آجاتے ہیں جن کے تمہارے ساتھ اچھے تعلقات نہیں۔پس یہ وہ خوبصورت تعلیم ہے جو محبت اور پیار کو پھیلاتی ہے۔صلح اور آشتی کی بنیاد ڈالتی ہے۔ماحول میں امن اور سلامتی پیدا کرتی ہے۔پھر ہم جلیسوں اور مسافروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے۔ان الفاظ میں حقوق کی ادائیگی کو میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی پر بھی حاوی کردیا اور اپنے دوستوں،ساتھیوں،ساتھ کام کرنے والوں پر بھی پھیلا دیا اور افسروں اور ماتحتوں کا بھی اس میں احاطہ کر لیا۔پھر وَمَا مَلَكَتْ ایمانکم۔کہہ کر ہر قسم کے ماتحتوں اور زیر نگیں افراد کے حق کی طرف توجہ دلا دی اور یہ سارے حقوق ادا کر کے فرمایا کہ اگر یہ حق ادا نہیں کر رہے تو تمہارے میں تکبر اور فخر پایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔پس دنیا میں امن قائم کرنے ، سلامتی پھیلانے اور ہر قسم کے طبقے کے حقوق قائم کرنے کے لئے