خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 13 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے۔پس یہ دن جو ہمیں میسر آئے ہیں جو ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کے دن ہیں بلکہ خدا تعالیٰ خود ان دنوں میں ہمارے قریب آ گیا ہے اور ان لوگوں کو نواز نا چاہتا ہے جو اس کے بھی حق ادا کریں، جو عبادت کا بھی حق ادا کریں اور اس کے بندوں کا بھی حق ادا کریں۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہمیں عاجزی اختیار کرتے ہوئے ان تمام قسم کے حقوق کو ادا کرنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔رمضان کے یہ دن ایک خاص ماحول کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں اور دوسری نیکیاں بجالانے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ان سے ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہم نے اپنی عبادتوں کو مقبول کروانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق ادا کرنے کی طرف بھی خاص توجہ کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم با ہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔تم سچ سچ اُس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جائے“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12 تا 13 ) آپ نے ایک جگہ فرمایا : ” جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچا وے“۔( ملفوظات جلد 6 صفحہ 91) اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عبادتوں کے ساتھ تمام دوسرے حقوق جو حقوق العباد ہیں وہ بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم حقیقی رنگ میں رحمان خدا کے بندے بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو اس رمضان میں پہلے سے بڑھ کر پانے والے ہوں اور پھر مستقل زندگیوں کا حصہ بنانے والے ہوں۔نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرمہ ہدایت بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم عمر احمد صاحب مرحوم درویش کالا افغاناں قادیان کا ہے جو 4 جون 2015ء کو چند دنوں کی علالت کے بعد وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ نے درویشی کا دور بہت صبر اور شکر سے گزارا۔صوم و صلوۃ کی پابند، تہجد گزار، قرآن کریم سے بہت محبت کرنے والی ، مہمان نواز ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔آپ کو بہت سے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ اور با ترجمہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ کے بڑے بیٹے سلسلہ کی خدمت