خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد 13 387 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء مثال نہیں ہو سکتی۔بہر حال یہ ضرورتمندوں کے حقوق کی ادائیگی ہے جس کا آپ نے اعلیٰ ترین اُسوہ قائم فرمایا جو مالی مدد کی صورت میں ہے۔اس کے علاوہ ان کے جذبات کا خیال رکھنا، ان کے احساسات کا خیال رکھنا، ان کی دوسری ضروریات کا خیال رکھنا یہ چیزیں بھی ساتھ ہیں۔اور پھر آپ نے مومنین کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اس طرف خاص توجہ کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے۔گو کہ یہ حکم سارے سال کے لئے ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ رمضان میں نیکیوں کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے یا ہونی چاہئے اس لئے ان دنوں میں خاص طور پر ان حقوق کی ادائیگی کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے اور ان دنوں کی نیکیوں کی عادت پھر مستقل نیکیاں بجالانے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے بنیادی مقصد عبادت کی طرف توجہ دلانے کے بعد کہ عبادت جہاں اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والا بناتی ہے وہاں ایک حقیقی عابد اور عبد رحمان کو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلانے والی ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔اگر یہ دونوں قسم کے حق ادا نہیں ہور ہے تو ایسا شخص مومن نہیں بلکہ ان لوگوں میں شامل ہے جو متکبر اور شیخی بگھارنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ہر عابد سے ان اعلیٰ اخلاق کی توقع رکھتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے جو عاجز ہوکر ایک مومن کو ادا کرنے چاہئیں۔ان حقوق کی ادائیگی کوئی یہ نہ سمجھے کہ کوئی بہت بڑی بڑائی ہے۔حقوق کی ادائیگی بڑائی نہیں بلکہ ہر مومن کا فرض ہے اور ان حقوق کی ادائیگی سے ہی عبادتیں بھی قبول ہوتی ہیں۔جیسا کہ آیت میں واضح ہے ان حقوق میں والدین کے حقوق ہیں۔رشتہ داروں کے حقوق ہیں۔یتیموں کے حقوق ہیں۔مسکین لوگوں کے حقوق ہیں۔رشتہ دار قریبی ہمسایوں کے حقوق ہیں۔غیر رشتہ دار ہمسایوں کے حقوق ہیں۔مختلف موقعوں پر ساتھ رہنے والے اٹھنے بیٹھنے والے لوگوں کے حقوق ہیں۔مسافروں کے بھی حقوق ہیں اور جو ہمارے زیر نگیں ہیں ، جو ہمارے پر انحصار کرنے والے ہیں ان کے بھی حقوق ہیں۔گویا کہ اس ایک آیت میں تمام انسانیت کا خیال رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا احاطہ کر کے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلا دی بلکہ حکم دے دیا۔والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن کریم میں اور جگہ بھی ذکر ہے۔بڑھاپے میں ان کی خدمت کرنا ان کا خیال رکھنا اولاد کا فرض ہے اور یہ کوئی احسان نہیں ہے۔رشتہ داروں کے حقوق ہیں اس بارے میں اگر خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے حق ادا کریں ، سسرالیوں کے حق ادا کرتے رہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے کہ اپنے رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو تو گھروں کے بہت