خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد 13 386 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء ماحول میں ہماری وجہ سے بے چینی اور فتنے کا باعث بن سکتی ہے اسے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہمارا وجود ہر جگہ سلامتی پھیلانے والا وجود بن جائے نہ کہ بے چینی اور فساد پھیلانے کا ذریعہ۔اللہ تعالیٰ نے حقوق کی ادائیگی، سلامتی پھیلانے کی وسعت اور تکبر سے بچنے کے لئے دوسری جگہ ان الفاظ میں حکم فرمایا ہے۔فرمایا کہ وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء: 37 ) اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقیناً اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر اور شیخی بگھارنے والا ہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور شرک سے روکنے کے بعد بعض حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔رمضان جہاں عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کا مہینہ ہے وہاں معاشرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلانے کا مہینہ ہے۔پس ان دنوں میں ان حقوق کی ادائیگی بھی ایک مومن کا فرض ہے اور اصل میں یہ حقوق کی ادائیگی تو ہمیشہ کے لئے ہے جو انسان کو کرنی چاہئے۔لیکن یہ مہینہ ایسا ہے جس میں ہم عادت ڈال سکتے ہیں۔اگر یہ ادا ئیگی نہیں تو صرف عبادتیں مومن کو ان تمام مقاصد کا حامل نہیں بنا تیں جو رمضان کا مقصد ہے۔ان دنوں میں اگر عادت پڑ جائے تو اصل مقصد یہ ہے کہ یہ پاک تبدیلیاں جو ہم پیدا کریں ان کو زندگی کا حصہ بھی بنائیں۔ایک تو عبادتیں ہیں اور جب ہم اس مہینے میں عبادتیں کریں تو پھر مستقل زندگی کا حصہ بنائیں۔پھر حقوق کی ادائیگی ہے ان کی طرف ہم اس مہینے میں توجہ کریں تو پھر مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنا ئیں۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بندوں کے حقوق کے لئے، غریبوں مسکینوں کی مدد کے لئے ان دنوں میں خاص طور پر اپنے ہاتھوں کو اس قدر کھولتے تھے کہ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی سخاوت تیز آندھی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔(صحیح البخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبى ولا يكون في رمضان 1902) عام حالات میں بھی آپ کی سخاوت کا معیار اس قدر بلند تھا کہ کوئی دوسرا ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا تو پھر رمضان میں اس سخاوت کی مثال دینے کے لئے تیز آندھی کی جو مثال دی گئی ہے اس سے بہتر کوئی