خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد 13 بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا“۔پھر آپ فرماتے ہیں : 385 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 301-302) ”انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔کبر اور رعونت اس میں آ جاتی ہے۔اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا‘۔(آپ فرماتے ہیں : ” کبیر نے سچ کہا ہے بھلا ہوا ہم بیچ بھنے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اُونچ کے ملتا کہاں بھگوان یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیرا اپنی ( کم ) ذات۔۔۔۔پر نظر کر کے شکر کرتا۔پس انسان کو چاہئے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا بیچ ہوں۔میری کیا ہستی ہے۔ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا بہر نمج وہ کسی نہ کسی پہلو میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو، تمام کائنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور نا قابل و پیچ جان لے گا۔‘ ( پس آنکھیں رکھنا شرط ہے۔اپنے اندر کا جائزہ لینا شرط ہے۔اپنے آپ کو پہچانا شرط ہے۔پھر کوئی فخر نہیں پیدا ہو سکتا۔فرمایا کہ انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور و رعونت و کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 437 438) پس یہ وہ معیار ہے جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دنیا میں خدا کی بادشاہت اس کے دین کو پھیلا کر قائم کرنے کا ہمارا دعویٰ ہے تو پھر اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو ہمیں اپنی حالتوں کو بھی ایسا بنانا چاہئے کہ پہلے خود خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر یہ تکبر وغیرہ ہے اور اپنی حالت کی طرف جائزہ نہیں لے رہے اور کسی بھی طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہو، کسی بھی قسم کا تکبر تمہارے اندر پایا جاتا ہے تو وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں شامل نہیں ہوسکتا۔پس یہ دن جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاک تبدیلیوں کے پیدا کرنے اور قبولیت دعا کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں میسر فرمائے ہیں ان میں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جس جس کو جس جس بات پر فخر ہے یا جو چیز ہمیں ہماری عاجزی اور انکساری میں بڑھانے میں روک ہے یا جو چیز بھی ہمارے