خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 374

خطبات مسرور جلد 13 374 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء کہ جب اس کو اپنا بچپل گیا تو کس طرح اطمینان سے بیٹھ گئی۔لیکن اس سے پہلے جب بچے کی تلاش میں تھی تو کس طرح اضطراب کا اظہار ہورہا تھا اور بے قرار ہو ہو کر دوڑ رہی تھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کی ہے بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے۔جو بندہ اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو کھو دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کو اس کا ایسا دکھ ہوتا ہے جیسا اس عورت کو اپنے بچے کے کھوئے جانے کا اور پھر جب بندہ تو بہ کر کے واپس آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ خوشی پہنچتی ہے جتنی اس عورت کو اپنے بچے کے ملنے سے پہنچی۔تو ہمارا خدا ہمیشہ بخشنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ ہم بھی اس کی بخشش کو ڈھونڈھنے کے لئے تیار ہوں اور نکلیں۔وہ دیکھ رہا ہے کہ ہم کب اس کی طرف بڑھتے ہیں۔اگر کوئی دیر ہے تو ہماری طرف سے ہے۔کوتاہیاں صرف ہماری طرف سے ہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے، اس کے حضور تو بہ کرتے ہوئے جاتا ہے، اس سے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی مغفرت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس ضمن میں ایک جگہ یہ اہم بات بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش نہ صرف انسان کے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے بلکہ اس کے گناہوں کو بھول جاتی ہے بلکہ صرف خود نہیں بھول جاتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی بھلوادیتی ہے۔تبھی خدا تعالیٰ کا نام ساتر نہیں بلکہ ستار ہے اور ستا ر وہ ہوتا ہے جس میں صفت ستر کی تکرار اور شدت پائی جاتی ہے۔بار بارجس میں بہت زیادہ شدت سے ستاری کی کیفیت پائی جائے۔دنیا صرف ساتر ہو سکتی ہے۔یعنی یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کسی کو کسی کے گناہ کا علم ہو تو وہ اسے بیان نہ کرے۔پردہ پوشی کرے مگر دوسروں کے ذہن سے کوئی کسی کے گناہ کا علم نہیں نکال سکتا۔لیکن خدا تعالیٰ کیونکہ تمام صفات کا جامع ہے اس لئے اس نے اپنی اس صفت کے بارے میں بھی کہا کہ میں ساتھ نہیں بلکہ ستارہوں۔یعنی صرف یہ نہیں کہ بندوں کے گناہ معاف کر دیتا ہوں بلکہ میں لوگوں کے ذہنوں سے بھی ان گناہوں کی یاد کو نکال دیتا ہوں اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ فلاں نے کبھی فلاں گناہ کیا تھا۔اگر خدا تعالیٰ ستار نہ ہوتا تو گناہگار کے لئے جنت میں بھی امن نہ ہوتا۔وہ ہر شخص کی طرف دیکھتا اور کہتا کہ اس کو میرے گناہ کا علم ہے۔پس خدا تعالیٰ ستار ہے۔وہ فرماتا ہے میں نہ صرف لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہوں بلکہ لوگوں کے حافظوں پر بھی تصرف رکھتا ہوں اور جب اللہ تعالیٰ کسی کی ستاری فرمانا چاہتا ہے تو دوسروں کو کسی کا گناہ یا دہی نہیں رہتا۔اور اس کو لوگ ہمیشہ سے ہی نیک اور پاک صاف خیال کرتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ ستاری