خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد 13 373 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء کے باوجود کہ حقیقت میں یہ مثالیں گو محبت کا ایک بلند ترین تصور قائم کرتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت اس دنیاوی مثال کے تمہارے تصور سے بہت اعلیٰ وارفع ہے اور اس کا احاطہ کرنا حقیقتاً مشکل ہے۔انسان تو بہت کمزور اور محدود علم کا حامل ہے۔اللہ تعالیٰ تو بہت بلند و بالا ہستی ہے۔ہم تو اپنے جیسے بندوں کی بھی دلی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے۔کسی کے ظاہری اعمال پر ہم اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں لیکن کسی کے دل میں کسی کی محبت کی کیا کیفیت ہے یا اس کے دل میں کیا ہے یہ بیان کرنا اور جاننا بہت مشکل ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نکتے کو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی کیفیت کو سمجھنے کی انسان میں کتنی صلاحیت ہے بڑے خوبصورت انداز میں اس طرح پیش فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ جس کے افعال کو بھی ہم نہیں سمجھ سکتے اس کی کیفیت محبت کو ہم کہاں سمجھ سکتے ہیں۔اس کی ظاہری چیزوں کو بھی نہیں سمجھ سکتے تو محبت کی جو کیفیت ہے اس کو ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے مگر پھر بھی مثالوں سے اس کی حقیقت کو قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔پہلی دو مثالیں میں دے چکا ہوں۔اس محبت کی ایک اور مثال پیش کرتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔بدر کی جنگ میں جب دشمن شکست کھا چکا تھا اور جنگ تقریبا ختم تھی اور کفار کے بڑے بڑے بہادر سپاہی اپنی سواریوں پر بیٹھ کر انہیں کوڑے مار کر جلد سے جلد میدان جنگ سے بھاگنے اور مسلمانوں سے دور پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس وقت ایک عورت میدان جنگ میں بغیر کسی خوف کے پھر رہی تھی اور اس پر ایک جوش اور جنون طاری تھا اور کبھی ایک بچے کو اٹھاتی اور کبھی دوسرے کو۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دیکھا تو صحابہ سے فرمایا کہ اس عورت کا بچہ گم گیا ہے اور یہا اسے تلاش کر رہی ہے اور ماں کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اس کو کوئی فکر نہیں کہ یہ میدان جنگ میں ہے اور یہاں ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے۔وہ عورت اس طرح دیوانہ وار پھر تی رہی۔جس بچے کو دیکھتی اسے گلے لگا لیتی لیکن جب غور کرتی تو اس کا بچہ نہ ہوتا۔پھر اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی۔آخر کار اسے اپنا بچہ مل گیا۔اس نے اسے گلے لگایا، اپنے ساتھ چمٹایا، پیار کیا اور پھر دنیا جہاں سے غافل ہو کر وہیں اسے لے کر بیٹھ گئی۔نہ اس کو یہ فکر تھی کہ یہ میدان جنگ ہے۔نہ اسے یہ فکر تھی کہ یہاں لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔اس کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ ابھی پوری طرح جنگ ختم نہیں ہوئی اور اسے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے دیکھا