خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 375

خطبات مسرور جلد 13 375 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء فرما دے۔پس ہمارا خداستار العیوب ہے اور غفار الذنوب بھی خدا ہے۔وہ نہ صرف ہمیں بخشنے والا ہے بلکہ ہماری کھوئی ہوئی عزت واپس دینے والا بھی ہے اور اس دنیا میں عزت کو قائم کرنے والا بھی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 513 تا 515) پس جب ایسا پیارا ہمارا خدا ہے تو کس قدر ہمیں قربانی کر کے اس کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔کس قدر اس کا عبد بننے کی ضرورت ہے۔پس اس بابرکت مہینے میں ہمیں اس ستار العیوب اور غفار الذنوب خدا کی طرف دوڑنے کی ضرورت ہے۔اس کے آگے جھکنے کی بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔شیطان ہر کونے پر کھڑا ہمیں اپنے لالچوں میں گرفتار کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن ہم نے اس سے مقابلہ کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ کی کوشش کرتے ہوئے اس کے ہر حملے سے بچنا ہے اور اسے نا کام کرنا ہے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنانا ہے۔تبھی ہم رمضان سے حقیقی رنگ میں فیضیاب ہو سکیں گے۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس سے ہمیں جہاں ذاتی فوائد حاصل ہوں گے وہاں جماعتی شمرات بھی ملیں گے۔افراد جماعت کی اصلاح اور نیکیاں اور تقویٰ ہی جماعتی ترقیات پر منتج ہوتا ہے۔جتنا زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ہوں گے اتنے زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے جماعتی ترقی میں بھی کردار ادا کرنے والے ہوں گے۔یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میری ترقی اور فتوحات دعاؤں کے ذریعہ سے ہوں گی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 58) پس جماعتی ترقیات مانگتے ہوئے بھی ہمیں خدا تعالیٰ کے آگے بہت زیادہ جھکنا چاہئے اور ان دعاؤں کے دنوں میں اس کے لئے بھی بھر پور طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ہم اپنی دعاؤں کو صرف اپنی ذات یا اپنے قریبیوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو بہت زیادہ وسعت دینے کی ضرورت ہے تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر گزار ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل فرما کر کیا ہے۔ہمارا کام اپنے آپ کو اس جماعت میں شامل کر کے ختم نہیں ہو گیا۔احمدی بننے کے بعد یہی کافی نہیں کہ ہم احمدی ہو گئے اور بیعت کر لی بلکہ بہت بڑی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ جماعتی ترقی میں ہم معاون و مددگار بن سکیں۔ہم عاجز ہیں، کمزور ہیں ، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔