خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 360

خطبات مسرور جلد 13 360 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء نظارے کے اس سحر سے باہر نہیں نکل سکا۔یہاں کی ہر چیز ہی مسحور کن ہے اور آپ کا تبلیغ کرنے کا انداز ہی نرالا ہے۔اگر اسی طرز پر تبلیغ کی جائے تو کوئی بدقسمت ہی ہوگا جو انکار کرے۔مونٹینیگر و سے آنے والے ایک صاحب راغب شپتافی ( Ragip Shaptafi ) صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تقاریر سنیں ، انتظامات دیکھے، غیر معمولی چیزیں تھیں۔اسی طرح راغب صاحب نے بتایا کہ مونٹینیگرو میں مسلمانوں کے نزدیک عموماً یہی مشہور ہے کہ جماعت احمد یہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کرتی لیکن جو شخص جماعت کو قریب سے دیکھتا ہے تو اس پر فی الفور واضح ہو جاتا ہے کہ یہ محض جھوٹ ہے جو مولویوں نے پھیلا یا ہوا ہے۔پھر مراکش کے ایک دوست جو بیلجیم میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ اپنے جذبات کو بیان نہیں کر سکتا۔ایسا روحانی نظارہ ہے جس نے میری روح کی گہرائی تک اثر کیا ہے۔اسلام کی صحیح تصویر مجھے یہاں نظر آئی ہے۔کہتے ہیں خلیفہ وقت کو دیکھ کر اور آپ کی تقاریر سن کر میر انظریہ احمدیت کے بارے میں تبدیل ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ مجھے ایسی بیعت کی توفیق دے کہ میں دین کا خادم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے والا بنوں۔ایک جرمن دوست ہیکو فرمینگل (Heiko Fannicke) صاحب کہتے ہیں۔یہ میرا پہلا موقع تھا کہ میں احمدیت کے بارے میں کچھ جان سکوں۔پھر میرے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو بھی انہوں نے کہا سچ کہا۔اگر تمام انسان اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو پوری دنیا میں امن پھیل جائے۔میں نے اپنی تو قعات سے بڑھ کر اسلام کے بارے میں یہاں سے سیکھا ہے اور مجھے بہت مزا آیا ہے۔فرانس کے ایک نو مبائع آن کی آنفان (Anly Anfane) صاحب جزائر کموروز کے رہنے والے ہیں۔تین ہفتے پہلے ہی انہوں نے بیعت کی تھی۔کہتے ہیں میں مسلمان تو تھا مگر استقامت نہیں ملتی تھی۔کل جب خلیفہ اسیح کے پیچھے جمعہ پڑھا تو مجھے بہت مزا آیا اور زندگی میں پہلی بار نماز میں رونا آیا۔جماعت میں داخل ہونے سے قبل میرے سارے کام پھنسے ہوئے تھے لیکن جب سے احمدی ہوا ہوں میرے سارے کام آسان ہو گئے ہیں اور روزانہ خدا تعالیٰ کے نشان نظر آ رہے ہیں۔ایک طالبعلم ایڈ گروس (Edgaras) کہتے ہیں کہ یہاں آنے سے قبل میرے ذہن میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اسلام کے بارے میں بہت غلط تصور قائم تھا۔لیکن خطابات سن کر اور جلسے کے پروگرام دیکھ کر سب کچھ مختلف لگا۔لوگوں کا رویہ بہت مثبت تھا اور آج حقیقی اسلام کو