خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد 13 361 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء آپ لوگوں کی صورت میں دیکھ رہا ہوں۔اسی طرح بہت سارے لوگوں کے تاثرات ہیں۔لتھوینیا سے آنے والے ایک وکیل نے کہا کہ میں جلسے میں شامل ہو کر بہت متاثر ہوا ہوں۔میں نے آپ کے خلیفہ کے خطابات سنے۔اسلام کے بارے میں یہ میرے لئے نیا تجربہ ہے۔یہاں آ کر مجھے اسلام کی حقیقی تعلیم کا علم ہوا ہے۔میں آپ کا شکرگزار ہوں اور ایک وکیل ہونے کی حیثیت سے اب لتھوینیا میں آپ کی جماعت کی ایکٹویٹیز (activities) میں قانونی طور پر پوری مدداور کوشش کروں گا اور آپ کا ساتھ دوں گا۔بوسنیا سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ خلیفتہ اسیح نے ایک زندہ خدا کے بارے میں تصور پیش کیا۔اس وقت صرف جماعت احمد یہ ایک ایسی جماعت ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے اور دکھاتی بھی ہے کہ خدا تعالیٰ آج بھی زندہ ہے۔اور یہ بات ہمیں آپ نے بڑے آسان الفاظ میں مگر عمدہ رنگ میں بیان کر کے سکھائی۔پھر ایک صاحب ہیں جو جرمنی اور حجیم کے بارڈر پر رہتے ہیں۔پہلے سے مسلمان ہیں۔کہتے ہیں جلسہ جرمنی پر آنے سے پہلے تک میں مذہب اور جماعت کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا لیکن جلسے میں شامل ہو کر میرے جذبات کی کایا پلٹ گئی ہے۔جس جماعت کو میں سنجیدہ نہیں لیتا تھا اسی جماعت نے میری زندگی کے بہترین دن مجھے جلسہ سالانہ کی شکل میں دکھائے۔پھر انہوں نے اپنی ایک لمبی خواب کا بھی ذکر کیا ہوا ہے۔اسی طرح ایک جرمن نواحمدی پیٹرک (Patrick) صاحب کہتے ہیں کہ مجھے آج بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور اس کی وجہ خلیفہ المسیح کا جرمن مہمانوں سے خطاب تھا ( جو انگلش میں ہوتا ہے)۔مجھے احمد یہ مسلم جماعت میں خلافت کے ذریعے سچی محبت نظر آئی ہے۔میرا دل محبت اور نور سے پُر ہے۔عبداللہ صاحب ایک سیرین ہیں۔ان کے والد کئی سالوں سے احمدی تھے۔یہ اپنے والد کے ساتھ رشیا میں رہتے تھے لیکن اب پڑھائی کے سلسلے میں ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ان کے والد صاحب کے ذریعے انہیں تبلیغ تو ہوتی رہی لیکن ابھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔جلسے میں شرکت کے بعد باوجود اس کے کہ جلسے سے پہلے مبلغ صاحب کے ساتھ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں ان کے روز سوال و جواب ہوتے تھے اور یہ نہیں مان رہے تھے۔پھر آخر مبلغ نے ان کو کہا کہ پھر یہی ہے کہ آپ دعا کریں۔کہتے ہیں میں دعا بھی کرتا ہوں۔تو ان کو بتایا کہ آپ درد سے اور الحاح سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ