خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 356

خطبات مسرور جلد 13 356 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء ملک جو ہیں تیجیم ، ہالینڈ، فرانس، سویڈن، سپین، اٹلی یہاں سے بھی نو مبائعین اور غیر از جماعت مہمان آئے۔اسی طرح جرمنی میں آبا در شین ممالک کے احمدی اور غیر از جماعت احباب اور اسی طرح ترکی کے احمدی اور غیر از جماعت احباب بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔ان سب کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئیں، سوال جواب بھی ہوئے۔چند ایک کے تاثرات میں پیش کرتا ہوں۔البانیا سے سولہ افراد آئے ہوئے تھے۔دو نے جلسے کی کارروائی دیکھ کر بیعت بھی کر لی۔ایک دوست ایڈوین جیپا (Ervin hepa) صاحب اپنی اہلیہ کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے۔یہ دونوں قانون کے شعبے سے منسلک ہیں۔یہ خود تو احمدی ہیں لیکن ان کی اہلیہ نے جلسے میں شمولیت سے پہلے بیعت نہیں کی تھی لیکن الحمد للہ کہ جلسے میں شامل ہو کر اور بعد میں ملاقات کر کے انہوں نے بھی بیعت کر لی اور یہ کہنے لگیں کہ جلسے کے تجربات نہایت غیر معمولی تھے جس سے محبت ، اخلاص اور بے لوث خدمت کا مظاہرہ انہوں نے دیکھا۔کہتی ہیں اس کا میرے دل پر بڑا غیر معمولی اثر ہوا۔یہ بھی قانون دان ہیں ، یہ بھی وکیل ہیں۔کہتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے بہت تبلیغ کی تھی اور کافی عرصے سے احمدیت کی خوبصورتی میرے دل میں بیٹھ چکی تھی لیکن آج کامل یقین سے جماعت احمدیہ کو قبول کرتی ہوں۔اور ملاقات کے دوران بھی وہ مستقل روتی رہیں۔یہ بھی نہیں کہ بڑی عمر کی ہیں۔نوجوان ہیں اور نو جوانوں میں بھی حقیقی اسلام پہچاننے کی طرف بہت توجہ پیدا ہو رہی ہے۔اسی طرح ایک دوست ابراہیم خوشلا (Ibrahim Turshilla) صاحب ہیں۔ملاقات کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ میں بھی احمدی ہوتا ہوں اور بیعت کر کے شامل ہو گئے۔کہتے ہیں میں نے یہ فیصلہ کرنے میں بڑی دیر کی ہے لیکن پھر بھی آج پورے یقین سے شامل ہوتا ہوں اور میرا یہ فیصلہ بڑا صحیح ہے۔کوسووو سے آنے والے ایک دوست اگرون (Agron) صاحب ہیں۔کہتے ہیں میں پچھلے سال بھی آیا تھا لیکن گزشتہ سال کے مقابلے پر جلسے کے انتظامات میں غیر معمولی وسعت اور نمایاں تبدیلی محسوس کی ہے۔پس یہ وسعت اور تبدیلی اور بہتری اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہے۔اور اس بات کو انتظامیہ کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنانے میں مزید کردار ادا کرنا چاہئے اور ان کی شکر گزاری بڑھنی چاہئے۔میسیڈونیا سے بھی 162افراد پر مشتمل وفد آیا تھا جن میں سے چودہ عیسائی تھے۔ستائیس غیر احمدی مسلمان تھے اور یہ تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا طویل سفر کر کے 36 گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچا تھا۔ان میں دوٹی