خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 355
خطبات مسرور جلد 13 355 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء فرمایا کہ انسان کو ہر حالت میں دعا کا طالب رہنا چاہئے۔یقیناً اس کے بغیر تو ہمارا ایک قدم بھی اٹھانا محال ہے۔اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر دعا مانگنی چاہئے اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بھی دیتا رہے۔اور پھر فرمایا کہ دعا کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ کے فضل ہوں یا اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی صفات کے جلوے دکھاتے ہوئے اپنے فضلوں کو اس سے کئی گنا بڑھ کر عطا کر رہا ہو جتنی ہماری دعا اور کوشش ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہلے سے بڑھ کر یاد کرنا اور ان کا ذکر کرنا ضروری ہے۔اور یہی چیز پھر مومنین کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرتی ہے۔اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ایک جوش پیدا ہوتا ہے تا کہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعامات مزید بڑھیں۔پس جس طرح جرمنی کے جلسے اور دوسرے پروگراموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل ہوئے اور جس طرح اسلام احمدیت کا پیغام ان دنوں میں وسیع پیمانے پر ملک کے وسیع حصے میں پھیلا ہے یا اس تک پہنچا ہے یہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر کیا جائے اور خاص طور پر جرمنی جماعت کو بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے اور اسے ان فضلوں پر شکر گزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل بڑھتے چلے جائیں۔دلوں تک پہنچنا تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بغیر ممکن نہیں۔کوئی انسان کسی کے دل تک نہیں پہنچ سکتا اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو۔انسان چاہے لاکھ کوشش کرے اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو کوئی پیغام اثر نہیں کرتا۔بعض دفعہ پر جوش مقررین کی تقریریں بھی اثر نہیں کرتیں لیکن ایک سادہ اور عام فہم انداز میں بات اثر کر جاتی ہے۔پس اس کے نظارے ہمیں جلسے پر نظر آئے۔وہاں جو غیر مہمان آئے ہوئے تھے ان کے تاثرات میں اس کا اظہار ہوا۔ان کا مختصر ذکر میں اس وقت آپ کے سامنے کروں گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی میں مشرقی یورپ اور ہمسایہ ممالک سے بہت سے لوگ جلسے میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔بہت سے غیر از جماعت اور غیر مسلم ہوتے ہیں جو احمدیوں کے تعلقات کی وجہ سے حقیقت جاننے کے لئے آ جاتے ہیں اور پھر ان پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ زمانے کے امام کے غلاموں میں شامل ہو جاتے ہیں، بیعت کر لیتے ہیں۔اس سال بھی جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت کے لئے میسیڈونیا، بوسنیا، کوسوو، مونٹی نیگر و، بلغاریہ، البانیا ، لیٹویا، رشیا، ہنگری لتھوینیا، کروشیا اور سلوینیا کے ممالک سے وفود آئے تھے۔اسی طرح ہمسایہ یورپی