خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد 13 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے۔اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 439) اللہ تعالیٰ ہم سے صرف نظر فرماتے ہوئے ہماری گزشتہ سال کی کمزوریوں کو معاف فرمائے اور اس سال میں ہمیں زیادہ سے زیادہ بھر پور کوشش کے ساتھ اپنی زندگیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔آج نمازوں کے بعد میں دو غائب جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو ہمارے شہید بھائی مکرم لقمان شہزاد صاحب ابن مکرم اللہ دیتہ صاحب کا ہے۔آپ کو بھڑی شاہ رحمان ضلع گوجرانوالہ میں مخالفین احمدیت نے مؤرخہ 27 دسمبر کو صبح بعد نماز فجر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لقمان شہزاد صاحب کو اپنے خاندان میں اکیلے ہی بیعت کا شرف حاصل ہوا تھا۔شہید مرحوم نے 27 نومبر 2007ء کو بیعت کر کے نظام جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔بیعت سے قبل شہید مرحوم کا علاقے کے احمدی احباب کے ساتھ کافی ملنا جلنا تھا۔بھڑی شاہ رحمان کے صدر جماعت مکرم سلطان احمد صاحب کو گاؤں کے لوگوں کے ساتھ مذاکرے کرتے دیکھ کر اور جماعت کی کامیابی دیکھ کر اور دلائل سن کر ان کا صدر صاحب کے ساتھ تعلق مزید گہرا ہو گیا۔اس کے بعد ایم ٹی اے کے پروگرام بالعموم سنا کرتے تھے اور میرے خطبات خاص طور پر سنا شروع کئے۔یہی عمل آپ کی قبولیت احمد بیت کا سبب بنا۔احمد بیت کی قبولیت کے بعد آپ کو شدید مخالفانہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔مخالفین نے احمدیت سے دستبردار کروانے کی کوشش میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔شہید مرحوم کو تشدد اور دھمکیوں کے علاوہ بہت سے مولویوں سے ملایا گیا۔لیکن بفضلہ تعالیٰ کوئی مولوی آپ کے سامنے ٹک نہ سکا۔ایک مرتبہ آپ کے پھوپھاز بر دستی آپ کو مقامی مسجد میں لے گئے جہاں چند مولوی بیٹھے ہوئے تھے۔ان کے احمدیت سے دستبرداری کے اصرار پر شہید مرحوم نے کہا کہ اگر یہ لوگ دلائل سے ثابت کر دیں کہ جماعت احمد یہ جھوٹی ہے تو میں انکار کر دوں گا۔جس پر مولوی نے کہا کہ اب بحث کا وقت ختم ہو گیا۔تم صرف جماعت سے انکار کا اعلان کروں۔کوئی بحث نہیں ہم نے کرنی۔دلیل کوئی نہیں۔شہید مرحوم کے نہ ماننے پر ان کے پھوپھا اور وہاں موجود مولویوں اور دیگر لوگوں نے ڈنڈوں وغیرہ سے مارنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید چوٹ آئی اور شدید زخمی ہو گئے۔مخالفین مارتے مارتے آپ کو ایک گاڑی میں ڈال کر آپ کے چچا کے پاس لے گئے اور جانوروں کے باڑے میں بند کر دیا۔ان کی والدہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو ان کے چچا کے ڈیرے پر