خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 16
خطبات مسرور جلد 13 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء پہنچیں اور اپنے بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا۔ان کی والدہ کو بھی تھپڑ مارا حالانکہ وہ غیر احمدی تھیں۔والدہ کے بار بار اصرار پر شہید مرحوم کو ان کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا اور ساتھ ہی کہا کہ آج کے بعد ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔شہید مرحوم کی بیعت کے ایک سال بعد رشتہ داروں نے ان کو زبردستی ان کے والد کے پاس سعودی عرب بھجوا دیا تا کہ احمدیت سے دستبردار کیا جا سکے۔سعودی عرب میں بھی آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا کیونکہ رشتہ داروں کی طرف سے آپ کے سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ہی آپ کے احمدی ہونے کی اطلاع دے دی گئی تھی۔شہید مرحوم نے سعودی عرب میں بھی جماعت کی تلاش جاری رکھی۔کئی ماہ کی کوششوں کے بعد ایک انڈین احمدی دوست کے توسط سے جماعت سے رابطہ ہوا۔شہید مرحوم اس بات پر بہت خوش ہوئے اور وہاں قیام کے دوران مرحوم کو حج کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔تین سال کے بعد شہید سعودی عرب سے واپس آگئے۔اپنا زمیندارہ شروع کر دیا۔26 نومبر 2014ء کو بھڑی شاہ رحمان میں مخالفین جماعت نے ختم نبوت کا نفرنس کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر سے نام نہاد مولویوں نے شرکت کی۔اس کا نفرنس میں مولویوں نے احباب جماعت کے خلاف واجب القتل ہونے کے فتوے دیئے اور لقمان شہزاد صاحب کے خلاف بالخصوص لوگوں کو بھر کا یا۔اس کا نفرنس کے بعد آپ کو مخالفین کی طرف سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا تھا۔بالآخر 27 دسمبر کو جب آپ فجر کی نماز ادا کر کے اپنے ڈیرہ پر جارہے تھے تو مخالفین نے تعاقب کر کے پیچھے سے سر میں گولی ماری جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں جام شہادت نوش فرمائی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرحوم 5 اپریل 1989ء (eighty nine) کو پیدا ہوئے۔مرحوم نہایت ایماندار، نیک دل ، نیک سیرت ، شریف النفس، ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔نہایت مخلص اور فدائی نوجوان تھے۔اس وقت جماعت احمد یہ بھڑی شاہ رحمان میں سیکرٹری مال کے عہدے پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بڑے شوق سے کرتے تھے۔مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔آپ احمدی دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا تو وہ دوست ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرے۔شہید مرحوم کہا کرتے تھے کہ مجھے اس وقت سکون آئے گا جب اپنے سارے گھر والوں کو جماعت میں شامل کرلوں گا۔آپ کی وفات پر ہمسایوں کی ایک مخالف خاتون نے کہا کہ میں نے اس