خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 14

خطبات مسرور جلد 13 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔۔۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یا درکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 285-284) پھر یہ عہد لیا کہ خداداد طاقتوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاؤں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قستام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے ان تمام امور میں محض للہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہوسکتی ہے ان کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خدا داد قوت سے مدد دے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگاوے“۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 61-62) پس دنیا کی روحانی ترقی کے لئے کوشش بھی بنی نوع کو فائدہ پہنچانے میں داخل ہے اور مادی اور روحانی فائدہ پہنچانا ہمارا فرض ہے۔پس جہاں ظاہری ہمدردی اور مدد پہنچانی ہے، انہیں فائدہ پہنچانا ہے، خدمت خلق کرنی ہے، وہاں تبلیغ بھی بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ایک احمدی کا فرض ہے۔پھر یہ عہد آپ نے لیا کہ آپ سے ایک ایسا قریبی رشتہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہم نے قائم کرنا ہے جس میں اطاعت کا وہ مقام حاصل ہو جو نہ کسی رشتے میں پایا جاتا ہے نہ کسی خادمانہ حالت میں پایا جاتا ہے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) ان تمام باتوں کی اطاعت کرنی ہے جو آپ ہماری دینی علمی، روحانی اور عملی تربیت کے لئے ہمیں فرما گئے ہیں یا آپ کے بعد خلافت احمدیہ کے ذریعہ سے جماعت کے افراد تک وہ پہنچتی ہیں جو شریعت کے قیام کے لئے ہیں۔جو قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اسوہ حسنہ کے مطابق ہیں کہ اس کے بغیر نہ ہی ہماری ترقی ہوسکتی ہے، نہ ہماری اکائی قائم رہ سکتی ہے۔پس ہمیں یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے عہد کو کس حد تک نبھایا اور اگر کمیاں ہیں تو اس سال ہم نے کس طرح انہیں پورا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری