خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 271
خطبات مسرور جلد 13 271 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء کا یہ اظہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس حد تک تھا اور کس طرح ان کا خیال رکھا کرتے تھے۔کہتے ہیں ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق تھا۔) کچھ مرغیاں میں نے رکھیں۔کچھ میر اسحق صاحب مرحوم نے رکھیں۔کچھ میاں بشیر احمد صاحب نے رکھیں اور بچپن کے شوق کے مطابق صبح ہی صبح ہم جاتے ، مرغیوں کے ڈربے کھولتے ، انڈے گنتے اور پھر فخر کے طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے کہ میری مرغی نے اتنے انڈے دیئے ہیں اور میری نے اتنے۔ہمارے اس شوق میں مبارک احمد مرحوم بھی شامل ہو جاتا۔اتفاقاً ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔اس کی خبر گیری سیالکوٹ کی ایک خاتون کرتی تھیں جن کا عرف دادی پڑا ہوا تھا۔ہم بھی اسے دادی ہی کہتے اور دوسرے سب لوگ بھی۔حضرت خلیفہ اول اسے دادی کہنے پر بہت چڑا کرتے تھے مگر اس لفظ کے سوا شناخت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا۔اس لئے آپ (حضرت خلیفہ اوّل) بجائے دادی کے اسے جگ دادی کہا کرتے تھے۔جب مبارک احمد مرحوم بیمار ہوا تو دادی نے کہہ دیا کہ یہ بیمار اس لئے ہوا ہے کہ مرغیوں کے پیچھے بہت جاتا ہے۔( وہاں مستقل رہتا ہے اور گندی جگہ ہے)۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو حضرت اماں جان سے فرمایا کہ مرغیاں گنوا کر ( یعنی کتنی مرغیاں ہیں گن لو ) ان بچوں کو اس کی قیمت دے دی جائے اور مرغیاں ذبح کر کے کھالی جائیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبارک احمد بہت پیارا تھا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 581-582) لیکن یہی بیٹا جس کی آپ نے اتنی تیمارداری کی جس کو اتنا پیار کیا، لاڈ کیا۔جب وفات پا گیا تو اس وقت کے حالات کا نقشہ حضرت مصلح موعود نے مختلف جگہوں پر کھینچا ہے کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کیا کیفیت ہوئی تھی۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بہت محبت تھی۔جب وہ بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اتنی محنت اور اتنی توجہ سے اس کا علاج کیا کہ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ پہنچے گا۔حضرت خلیفہ اول بڑے حوصلہ والے اور بہادر انسان تھے۔جس روز مبارک احمد مرحوم فوت ہوا اس روز صبح کی نماز پڑھا کر آپ مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔میرے سپر داس وقت مبارک احمد کو دوائیاں دینے اور اس کی نگہداشت وغیرہ کا کام تھا۔میں ہی نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔میں تھا، حضرت خلیفہ اوّل تھے ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے اور شاید ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔جب حضرت خلیفہ اول مبارک احمد کو دیکھنے کے لئے پہنچے تو ย