خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد 13 272 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حالت اچھی معلوم ہوتی ہے۔بچہ سو گیا ہے۔مگر در حقیقت وہ آخری وقت تھا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ”جب میں حضرت خلیفہ اول کو لے کر آیا اس وقت مبارک احمد کا شمال کی طرف سر اور جنوب کی طرف پاؤں تھے۔حضرت خلیفہ اول بائیں طرف کھڑے ہوئے اور انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا مگر نبض آپ کو محسوس نہ ہوئی۔اس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور مشک لائیں اور خود ہاتھ کہنی کے قریب رکھ کر نبض محسوس کرنی شروع کی کہ شاید وہاں نبض محسوس ہوتی ہو۔مگر وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ حضور جلدی مشک لائیں اور خود بغل کے قریب اپنا ہاتھ لے گئے اور نبض محسوس کرنی شروع کی اور جب وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو گھبرا کر کہا حضور جلد مشک لائیں۔اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چابیوں کے گچھے سے کنجی تلاش کر کے ٹرنک کا تالہ کھول رہے تھے۔جب آخری دفعہ حضرت مولوی صاحب نے گھبراہٹ سے کہا کہ حضور مشک جلدی لائیں اور اس خیال سے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت صدمہ ہوگا، باوجود بہت دلیر ہونے کے آپ کے (حضرت خلیفہ اول کے ) پاؤں کانپ گئے اور حضرت خلیفہ اول کھڑے نہ رہ سکے اور زمین پر بیٹھ گئے۔ان کا خیال تھا کہ شاید نبض دل کے قریب چل رہی ہو اور مشک سے قوت کو بحال کیا جا سکتا ہومگر ان کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ امید موہوم تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آواز کے تر نقش کو محسوس کیا تو آپ سمجھ گئے کہ مبارک احمد کا آخری وقت ہے اور آپ نے ٹرنک کھولنا بند کر دیا اور فرمایا کہ مولوی صاحب شاید لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔آپ اتنے گھبرا کیوں گئے ہیں۔یہ اللہ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہمیں دی تھی۔اب وہ اپنی امانت لے گیا ہے تو ہمیں اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے۔پھر فرمایا آپ کو شاید یہ خیال ہو کہ میں نے چونکہ اس کی بہت خدمت کی ہے اس لئے مجھے زیادہ صدمہ ہوگا۔خدمت کرنا تو میرا فرض تھا جو میں نے ادا کر دیا اور اب جبکہ وہ فوت ہو گیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر پوری طرح راضی ہیں۔چنانچہ اسی وقت آپ نے بیٹھ کر دوستوں کو خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔الفضل 14 مارچ 1944 ء صفحہ 4 جلد 32 نمبر 61) ایک جگہ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ وہیں جہاں یہ دوائیاں پڑی تھیں وہاں کا رڈ بھی پڑے ہوئے تھے جو پوسٹ کارڈ ہوتے ہیں۔آپ نے بجائے دوائی نکالنے کے پھر کارڈ وہاں سے نکالے، قلم