خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد 13 270 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء میرے معاملات میں دخل دیں اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ یہ بندہ متوکل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کے معاملات میں دخل دوں تو وہ دیتا ہے اور پھر اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمو دجلد 23 صفحہ 274-275) حضرت مصلح موعود نے اس واقعہ کی مثال کے بعد ایک مثال دی جو ایمان کو تازہ کرتی ہے اور جو لیکھرام سے تعلق رکھتی ہے کہ لیکھرام کا واقعہ بھی اس امر کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہے تو صحت کے تمام سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔(اب لیکھرام کے معاملے میں ) خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا ، ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا ) کہ عید کے دوسرے دن اس کی موت ہوگی اور چھ سال کے اندر اندر۔اب چھ سال میں دو تین روز کے لئے حفاظت کے خاص طور پر سامان کر لینا کوئی مشکل امر نہیں ہے اور یہ اس کے اختیار میں تھا کہ ان دنوں حفاظت کے خاص سامان مہیا کر لیتا مگر با وجود اس کے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کو پورا کر دیا حالانکہ ظاہری سامان اس کے خلاف تھے۔16 مارچ اس کی موت مقدر تھی۔یکم مارچ کولیکھر ام کو سبھا کی طرف سے ملتان پہنچنے کا حکم ہوا۔( یہ ان کی کمیٹی تھی۔) وہاں 4 مارچ تک اس نے چار لیکچر دیئے۔پھر سمجھانے اسے سکھر جانے کے لئے تار دیا مگر وہاں پلیگ ہونے کی وجہ سے ملتان کے آریہ سماجیوں نے وہاں جانے سے روک دیا۔پھر پنڈت لیکھرام مظفر گڑھ جانے کے لئے تیار ہوئے مگر یہ نہیں معلوم کہ پھر وہ سیدھے لا ہور کیوں لوٹ پڑے اور 6 مارچ دو پہر کو یہاں پہنچ گئے۔اگر وہ اسی روز واپس نہ آتا تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوتی لیکن باوجود اس کے باہر رہنے کا موقع پیدا ہو گیا۔پھر بھی وہ لاہور پہنچ گیا اور وقت مقررہ پر قتل بھی ہو گیا۔یہ مثال اس امر کی ہے کہ صحت اور حفاظت کے سامانوں کے باوجود بھی انسان ہلاک ہوسکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انسان کے کاموں میں دخل دیتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اپنی قدرت دکھاتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 273) صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا بھی ذکر ہوا جن کی تیمارداری کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی صحت پر بھی بڑا برا اثر پڑا اور آپ کو اپنے اس لڑکے سے محبت بھی تھی۔اس کا ذکر حضرت مصلح موعود ایک واقعہ میں یوں فرماتے ہیں کہ ہمارا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کا نام مبارک احمد تھا۔اس کی قبر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے مشرق کی طرف موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ بہت ہی پیارا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق پیدا ہوا۔( محبت