خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 265

خطبات مسرور جلد 13 265 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء کھڑے ہو جانا کیونکہ سڑک پے بڑے بڑے لوگ استقبال کے لئے موجود ہوتے ہیں۔میں جب آؤں گا تو تم سے بے تکلفی سے باتیں کروں گا۔تم بھی ایسے ظاہر کرنا جیسے میرے دوست ہو۔ڈرنا نہیں کہ میں بادشاہ ہوں، کچھ ہو جائے گا۔تم سے میں پوچھوں گا کہ بڑے عرصے سے ملے نہیں تو تم بتانا کہ پہلے تو میں سفر پہ گیا ہوا تھا پھر واپس آیا تو ایک شخص کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی اس کا جھگڑا چل رہا ہے۔وصولی کی کوشش میں ہوں۔بادشاہ نے کہا کہ اس پر میں تمہیں وہیں قاضی کے سامنے ہی کہوں گا کہ اس جھگڑے کے حل کے لئے میرے پاس تم آ جاتے۔پھر تم کہنا کہ اچھا اگر حل نہ نکل تو میں آپ کے پاس آؤں گا۔چنانچہ اس دن جب بادشاہ آیا۔اس تاجر نے ایسا ہی کیا۔سوال جواب ہوئے۔قاضی بھی جو بادشاہ کے استقبال کے لئے موجود تھا کھڑا یہ باتیں سن رہا تھا۔جب بادشاہ کی سواری آگے چلی گئی تو قاضی صاحب تاجر کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم ایک دن میرے پاس آئے تھے اور کسی امانت کا ذکر کیا تھا۔میرا حافظہ کمزور ہے۔کچھ نشانیاں بتاؤ تو تاجر نے وہی نشانیاں جو پہلے بتائی تھیں دوبارہ بتادیں۔قاضی اب چونکہ بادشاہ کا رویہ اور سلوک دیکھ چکا تھاتوفوراًبولا یہ نشانیاں پہلے کیوں نہیں بتائیں۔امانت میرے پاس محفوظ ہے۔ابھی لا کر دیتا ہوں۔جب ایک دنیوی بادشاہ جس کو محدود طاقت ہے اس کی دوستی انسان کو یہ مقام دے سکتی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس سے ڈرتے ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی دوستی کسی کو حاصل ہو اور دنیا اس کے قدموں پر نہ گر جائے۔پس سچا مذہب حاصل کر کے انسان تمام دنیا کو حاصل کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ باتیں جو صحابہ کو ملیں انہوں نے دنیاوی طور پر حاصل نہیں کی تھیں بلکہ جو دنیا انہیں ملی وہ مذہب کے تابع ہو کر ملی۔مگر اس کے لئے ایمان کی ضرورت ہے۔ایسا ایمان ہونا چاہئے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو جذب کرے۔ایک شخص جسے کامل ایمان حاصل ہو وہ کس طرح اعلیٰ اخلاق کو چھوڑ سکتا ہے۔اگر اخلاق کے سارے شعبے انسان اختیار کرے اور ان پر عمل کرے تو سچائی ، دیانت ، امانت ، تقویٰ اور طہارت سبھی کچھ اسے حاصل ہو جائے گا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ علم، ہنر ، ہوشیاری ، لیاقت اور محنت اس کو حاصل ہوگی۔اس پر عمل کرنے والا ہوگا اور نتیجہ پھر دنیا بھی حاصل ہوگی۔پس مومن کو سب سے زیادہ تو جہ روحانی تعلق کی طرف کرنی چاہئے۔ان لوگوں کی طرح نہیں جو سمجھتے ہیں کہ منہ سے اقرار کافی ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت زبان سے نہیں ہوسکتی بلکہ دل سے ہی ہوسکتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر انسان ہر شئے پر قبضہ کر لیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمودجلد 17 صفحه 467 :470) جب تک کوئی انسان کمال حاصل نہ کرے انعام نہیں مل سکتا۔مذہب میں داخل ہونے سے بھی