خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 10

خطبات مسرور جلد 13 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے سب سے بڑا احسان تو یہی ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔اگر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان یا در ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خالص تعلق جوڑنے کی کوشش بھی ہر وقت رہے گی اور آپ کی باتوں پر عمل کرنے کی طرف تو جہ رہے گی۔پھر یہ عہد ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا رہوں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرا ہم کام اگر اللہ تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ بے برکت اور بے اثر ہوتا ہے۔(سنن ابن ماجه، ابواب النكاح باب خطبة النكاح حديث نمبر 1894) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا اور جولوگوں کا شکر یہ ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا نہیں کر پاتا۔رضة الله (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 297 مسند نعمان بن بشیر حدیث 18640 مطبوعہ بیروت 1998ء) پس اللہ تعالیٰ کی حمد کو اس طرح کریں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بھی ممنون احسان رہیں۔پھر ایک عہد ہم نے یہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام مخلوق کو تکلیف نہیں دیں گے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) پھر یہ عہد ہے کہ مسلمانوں کو خاص طور پر اپنے نفسانی جوشوں سے ناجائز تکلیف نہیں دیں گے۔(ماخوذاز ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) جس حد تک عفو کا سلوک ہو سکتا ہے کرنا ہے۔لیکن اگر مجبوری سے کسی کے حد سے زیادہ تکلیف دہ رویے کی وجہ سے اصلاح کی خاطر ، ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں، غصے کی وجہ سے نہیں بلکہ اصلاح کی خاطر کسی کو سزا دینی ضروری ہے تو پھر اپنے ہاتھ میں معاملہ نہیں لینا بلکہ حکام تک بات پہنچانی ہے۔جو اصلاح بھی کرنی ہے صاحب اختیار نے کرنی ہے۔ہر ایک کا کام نہیں کہ اصلاح کرتا پھرے۔خود کسی سے بدلے نہیں لینے۔عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنانا ہے۔پھر یہ عہد ہے کہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کا وفادار رہنا ہے۔خوشی اور تکلیف ہر حالت میں خدا تعالیٰ (ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) کا دامن ہی پکڑے رکھنا ہے۔