خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 257
خطبات مسرور جلد 13 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء کہ اچھے اخلاق اور مادی ترقی انسان کی ضرورت ہے۔لیکن ایک حقیقی مسلمان کہے گا کہ مذہب کی بھی ضرورت ہے کہ وہ خدا تک پہنچانے کا راستہ دکھاتا ہے۔پس یہ سوچ کا فرق ہے کہ ہم نے ان چیزوں کو کس طرح دیکھنا ہے اور ان کا آپس کا تعلق کس طرح جوڑنا ہے۔باقی مذاہب تو مردہ ہو رہے ہیں۔اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ان کا آپس کا جوڑ ثابت کرتا ہے۔لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے غلط رنگ میں اخلاقیات سے تعلق رکھنے والی چیزوں اور مادیات سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو مذہب سے اس طرح جوڑا ہے کہ غلو کی حد تک جا کر بجائے مذہب کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے اور اس کے طرف کھینچنے کے مذاہب سے دور کرنے والے بن رہے ہیں۔نماز روزے سے اتر کر اخلاق اور دنیوی ضروریات خواہ کسی انجمن کا قیام ہو یا جلسے کا انعقاد، عموماً علماء یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ اسلام کا حصہ ہیں اور اس میں شامل نہ ہونے والا کا فراور مرتد ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 462-463) اب ہم یہی اسلامی دنیا میں دیکھتے ہیں۔پھر کا فر اور مرتد سے بڑھ کر جنگیں شروع ہو جاتی ہیں۔ہر فرقے کے فتوے ہیں اور پھر یہی وجہ ہے کہ مختلف شدت پسند گروہ اپنے اسلام کو نافذ کرنے کے لئے اپنا ضابطہ اخلاق یا نام نہاد قانون بنا کر قتل و غارت گری کر رہے ہیں۔شام میں ،عراق میں ، افغانستان میں، پاکستان میں مذہب کے نام پر اپنے خود ساختہ قوانین ہی خون کر رہے ہیں۔شام کی یا عراق اور شام میں جو نام نہاد اسلامی حکومت قائم ہوئی ہے وہاں سے ایک فریج جرنلسٹ رہا ہو کر آیا، پہلے بھی میں نے بتایا تھا، اس نے وہاں بعض ایسی باتیں دیکھیں ، ان کے عمل دیکھے، ان کے قوانین دیکھے تو جتنا اس کو اسلام کا علم تھا یا قرآن کریم اس نے پڑھا تھا یا حدیث کا علم تھا اس کے مطابق اس نے وہاں بعض لوگوں سے پوچھا کہ تم جو بعض حرکتیں کر رہے ہو یہ تو قرآن اور حدیث کے مطابق نہیں تو اس نام نہاد اسلامی حکومت کے کارندوں کا یا ان اہلکاروں کا جن سے اس کا واسطہ تھا یا ان افسران کا یہ جواب تھا کہ ہمیں نہیں پتا کہ قرآن اور حدیث میں کیا ہے۔ہمارا یہ قانون ہے اور ہم اس کے مطابق کر رہے ہیں۔تو اس طرح اسلام کی تعلیم میں انہوں نے بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ اپنی پسند کے فتووں کو مذہب کا نام دے کر معصوموں پر ہوائی حملے کئے جارہے ہیں۔ٹھیک ہے ایک فریق بھی غلط ہے دوسرا فریق بھی غلط ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ بلا وجہ معصوموں کو بھی مارا جائے۔بلکہ اگر ہم دیکھیں تو اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے