خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 256

خطبات مسرور جلد 13 256 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء گی اور ان کو پتا لگے گا کہ اسلام کی تعلیم کتنی خو بصورت تعلیم ہے اور اس کے خلاف بولنے والے جھوٹے ہیں۔یہ مسئلہ جو آج زیادہ شدت سے لامذہبوں یا مذہب مخالف لوگوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔پہلے بھی وقتاً فوقتاً اس طرح کے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ہمیشہ سے مذہب پر اعتراض کرنے والے اس مسئلے کو ، اسی طرح کی دوسری باتوں کو اٹھاتے رہے ہیں جن سے مذہب پر اعتراض ثابت ہو کیونکہ مذہب کو انہوں نے بھی بھی صحیح رنگ میں مجھنے کی کوشش نہیں کی اور نام نہاد مذہبی علماء نے خود ساختہ غلط حل نکال کر یا صحیح رنگ میں اس مذہب کو نہ سمجھ کر تعلیم یافتہ طبقے کومزید الجھن میں ڈال دیا ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان کیا ہے کہ ان مسائل کی الجھنوں کو دور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے۔آپ علیہ السلام نے ان کو سمجھنے کا ادراک ہم میں پیدا فرمایا اور یہ مسائل سمجھنے اور ان کے حل نکالنے ہم پر آسان ہوئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ اس کی روشنی میں ایک خطبہ دیا اور اس میں اخلاق کی درستی ، مادی ترقی اور مذہب کا کیا تعلق ہے اور اسلام اس کو کس طرح دیکھتا ہے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنے عمل سے اور اپنے عملی نمونے سے ہمیں سمجھایا کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟ تو جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ نے خطبے میں اس بارے میں بیان کیا اور مختصر روشنی ڈالی تھی۔اس سے استفادہ کرتے ہوئے آج میں اس مضمون کو آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اسلام دین فطرت ہے ہم دنیا کو یہ کہتے ہیں اور یقینا سچ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اللہ تعالیٰ نے عین انسانی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز فرمایا یا نازل فرمایا۔اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اسلام دین فطرت ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : مذہب اور اخلاق اور انسان کی وہ ضروریات جو اس کے جسم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ایسی مشترک ہیں کہ ان میں فرق کرنا مشکل ہے۔یعنی جو شخص مذہب پر یقین رکھتا ہے وہ اخلاق کو مذہب سے جدا نہیں کر سکتا۔نہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مذہب نے مجھے دنیا سے بے پرواہ اور غنی کر دیا اس لئے یہ میری ضروریات نہیں ہیں۔اگر یہ سوچ ہو کہ مجھے اب کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے تو انسانی ترقی یعنی مادی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔گویا کہ یہ ساری چیزیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔مذہب بھی ، اخلاق بھی اور مادی ترقی بھی لیکن اس کے باوجودان میں فرق بھی ہے۔مذہب پر یقین نہ رکھنے والے تو یہ کہہ کر آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں