خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد 13 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء اور آج تک یہی ہو رہا ہے کہ فلاں مولانا کا یہ مذہب ہے اور فلاں عالم کا یہ مذہب ہے۔یعنی ہر عالم اور مولانا نے بھی اپنا مذہب بنالیا ہے۔اس طرح اسلام میں یعنی ان لوگوں کے اسلام میں جس پر یہ عمل کر رہے ہیں کوئی حقیقت باقی نہیں رہی اور اسی وجہ سے ان علماء اور فتویٰ دینے والوں کے پیچھے چل کر مسلمانوں کی اکثریت بھی اسلام سے دُور جا پڑی ہے۔روحانیت اور مذہب کے نام پر پتا نہیں کیا کچھ ہو رہا ہے۔اس کے مقابل پر مذہب سے دور اور مغربی ترقی یافتہ لوگ جو ہیں وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ روحانیات اور اخلاقیات کو مادی دنیا کا حصہ بنا دیں۔بالفرض اگر الہام پر غور کر بھی لیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ انسانی افعال کا جزو ہے۔وہ اخلاق پر غور کریں گے تو اس نکتہ نگاہ سے کہ اس سے انسان کو دنیوی فائدہ ہوگا۔اخلاق بھی دنیوی فائدے کے لئے ہیں اور اگر مذہب پر غور کریں گے تو یہی کہیں گے کہ یہ ادنی قسم کے غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ جولوگ ہیں مذہب کے نام سے کچھ حد تک جرائم سے بچ جاتے ہیں۔یعنی مذہب کے نام پر اگر کوئی فائدہ ان لوگوں کو پہنچ سکتا ہے تو وہ صرف اتنا ہے کہ اس میں کچھ حد تک اخلاقی بہتری ہو جاتی ہے کہ ان کو مذہب کا خوف ہے۔وہ بھی اگر صحیح مذہب اپنا یا جائے۔لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ جن میں پہلے ہی اخلاق ہیں ان کو مذہب کی کیا ضرورت ہے۔لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ مادیات، اخلاق اور مذہب اس قدر قریب ہیں کہ عام آدمی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے ایک حد شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر غور کرتے ہیں، اس کو دیکھتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے مادی مصلح بھی ہیں ، اخلاقی مصلح بھی ہیں اور روحانی مصلح بھی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تمام کی جامع ہے۔اگر ایک طرف آپ حکم فرماتے ہیں کہ الدُّعَاء مَخُ الْعِبَادَةِ تو دوسری طرف روحانیت کی تکمیل کے متعلق زور بھی دیتے ہیں۔صرف یہی نہیں کہ نماز پڑھ لی اور مسئلہ حل ہو گیا بلکہ اس کے مدارج بھی طے کرنے ہیں، روحانیت کو بڑھانا بھی ہے۔دعا کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایسا ہے جیسے بچے اور ماں کا تعلق ہوتا ہے۔دعا کے معنی پکارنے کے ہیں۔پکارنے والا تب پکارتا ہے جب یقین ہو کہ کوئی میری مدد کرے گا۔کوئی اپنے دشمن کو تو مدد کے لئے نہیں پکارتا۔جب ہم دعا کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں تو کس طرح اس کو ہمیں دیکھنا چاہئے۔دعا میں حضرت مصلح موعود کے نزدیک تین چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے۔اول یہ کہ دل میں یقین کرے کہ میری بات قبول کی جائے گی۔دوسرے یہ اعتما در کھے کہ جس کو میں پکارتا ہوں اس میں مدد کرنے کی طاقت ہے۔تیسرے ایک فطری لگاؤ ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف یا