خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 255

خطبات مسرور جلد 13 255 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء میں جو طرز تعلیم ہے اس میں جستجو کی طرف تحقیق کی طرف زیادہ توجہ دلائی جاتی ہے اور یہ بڑی اچھی بات ہے اس طرف تو جہ ہونی چاہئے لیکن اس کے صحیح طریق بھی ہونے چاہئیں۔بہر حال جب نوجوان یا نوجوانی میں قدم رکھنے والے لڑکے لڑکیاں اپنے گھر والوں میں اپنے ماں باپ اور بڑوں کی طرف ذہنوں میں پیدا کئے گئے اور پیدا ہونے والے مختلف سوالوں کے حل کی تلاش کے لئے جاتے ہیں تو یا تو ماں باپ کے پاس اپنے معاشی اور معاشرتی ضروریات اور مصروفیات کی وجہ سے جواب دینے کا وقت نہیں ہوتا یا علم نہیں ہوتا اور اس وجہ سے ان کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے انہیں بسا اوقات دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے نو جوانی میں قدم رکھنے والے بچے بھی سمجھتے ہیں کہ مذہب چاہے وہ اسلام ہی کیوں نہ ہو اس کا دعویٰ تو ہے کہ سچا ہے اور تمام مسائل کا حل ہے لیکن زمانے کے لحاظ سے عملی حل نہیں ہے یا جواب نہیں ہے یا پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ بڑوں کے عمل اور بچوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے اس میں تفاوت ہوتا ہے۔بچے ایک وقت تک تو تعلیم کی باتیں سن کر چپ رہتے ہیں لیکن جب آزادی ملتی ہے تو دین سے دُور ہٹ جاتے ہیں اور پھر مذہب سے دور لے جانے والوں کے قبضے میں چلے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اسلام کی خوبصورت تعلیم اور زندہ مذہب ہونے کے اب مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو مذہب اور خدا کے انکاری ہیں۔پس ایسے حالات میں ہم میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح اپنے آپ کو بھی ہم دین پر عمل کرنے والا بنا ئیں اور اپنی نسلوں کو بھی کس طرح ہم سنبھالیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے اور اس نے مختلف مسائل کے حل بتائے ہیں۔قرآن کریم ایک مکمل اور کامل کتاب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کامل اُسوہ ہمارے سامنے پیش فرماتے ہیں اور اس اُسوہ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔انہوں نے مذہب کو بھی سمجھا اور اخلاق کو بھی سمجھا بلکہ مادی ترقی بھی حاصل کی۔لیکن ہر چیز کو اپنی جگہ رکھنے کا ادراک بھی حاصل کیا کہ مذہب کہاں رکھنا ہے؟ اخلاق کہاں ہیں؟ مادی ترقی کیا ہے؟ پس ہمارے نوجوانوں کو ، نو جوانی میں قدم رکھنے والے بچوں بلکہ خاص طور پر بڑوں کو یاد رکھنا چاہئے کیونکہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری بڑوں کی ہے کہ ہم اخلاق کی درستی ، مادی ترقی اور مذہب کے تعلق کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں۔بڑے اس نکتے کو سمجھیں گے تو اگلی نسلوں کو بھی سنبھال سکیں گے۔نوجوان اس نکتے کو سمجھیں گے تو دینی اور دنیاوی ترقی کی راہیں ان پر کھلیں