خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد 13 254 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز الخامس فرمودہ مورخہ 24 را پریل 2015 ء بمطابق 24 شہادت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مذہب کی ضرورت ایک سوال آجکل پہلے سے زیادہ شدت سے نوجوانوں کے ذہنوں میں خاص طور پر اور معاشرے میں عموماً ان لوگوں کی طرف سے کثرت سے پھیلایا جاتا ہے جو مذہب کے خلاف ہیں۔یا صحیح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مذہب بلکہ خدا سے بھی دُور ہٹ گئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر اچھے اخلاق ہوں یا اگر دنیاوی تعلیم اچھے اخلاق کی طرف لے جاتی ہے تو پھر مذہب کے ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ مذہب بھی تو یہی دعویٰ کرتا ہے یا مذہب کے ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ وہ تمہیں اچھے اخلاق سکھاتا ہے۔تو اخلاق تو ہمارے اندر بغیر مذہب کے پیدا ہو گئے۔بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا داروں کی اکثریت کے اخلاق مذہب کے ماننے والوں کے اخلاق سے زیادہ بہتر ہیں اور خاص طور پر اسلام کو اس حوالے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔دوسرے مذاہب کی اکثریت تو مذہب کے معاملے میں تقریباً لا تعلق ہو چکی ہے صرف اسلام ایسا مذہب ہے جس کی طرف منسوب ہونے والی اکثریت اپنے دین کے ماننے کا اظہار کرتی ہے یا بے عمل مسلمانوں کی اکثریت بھی اپنے آپ کو کھل کر مسلمان کہتی ہے، مذہب کی طرف منسوب کرتی ہے۔اسی لئے اصل حملہ اسلام پر ہی ہے اور دین سے ہٹانے کی کوشش میں مختلف طریق سے مختلف نکات پیش کر کے ہمارے بچوں اور نو جوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔خاص طور پر مغربی ممالک