خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 248

خطبات مسرور جلد 13 248 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء اب نہیں مل سکتیں ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہوں گی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جبکہ دہریت کا بہت زور ہے اور اس کو توڑنے کے لئے آسمانی نشانوں کی حد درجے کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشانات اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کا قیاس کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر میں ایک صاحب عبدالکریم نامی کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔وہ قادیان میں سکول میں پڑھا کرتے تھے۔انہیں اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ کھایا۔اس پر انہیں علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا اور علاج ان کا بظاہر کامیاب رہا۔لیکن واپس آنے کے کچھ دن کے بعد انہیں بیماری کا دورہ ہو گیا جس پر کسولی تار دی گئی کہ کوئی علاج بتایا جائے مگر جواب آیا کہ۔Nothing can be done for Abdul Karim یعنی افسوس ہے کہ عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی بیماری کی اطلاع دی گئی۔چونکہ سلسلے کی ابتدا تھی۔(ابھی نیا نیا شروع ہوا تھا۔جماعت احمدیہ کی ابتدا تھی) اور یہ صاحب دور دراز سے علاقہ حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں سے بغرض تعلیم آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہمدردی پیدا ہوئی اور آپ نے ان کی شفا کے لئے خاص طور پر دعا فرمائی اور فرمایا کہ اس قدر دور سے یہ آئے ہیں ، جی نہیں چاہتا کہ اس طرح ان کی موت ہو۔ایک جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کی ماں نے بڑے شوق سے اور جذبے سے اسے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اتنے دور دراز علاقے سے بھیجا ہے، اس لئے بھی میرے اندر ایک درد پیدا ہوا کہ اس کے لئے دعا کروں۔بہر حال اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دورہ ہو جانے کے بعد ان کو شفا دے دی حالانکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے (اس وقت کی میڈیکل ہسٹری یہی کہتی تھی کہ ) اس قسم کے مریض کو کبھی شفا نہیں ہوئی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میرے ایک عزیز ڈاکٹر ہیں بلکہ اب بھی ڈاکٹری کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے زمانہ طالبعلمی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ ہستی باری تعالیٰ پر ایک دوسرے طالبعلم سے گفتگو کر رہے تھے۔دورانِ گفتگو انہوں نے یہ واقعہ بطور شہادت کے پیش کیا کہ خدا تعالیٰ ہے اور اس طرح دعائیں سنتا ہے اور اس طرح ایک علاج ہو گیا۔اس طالبعلم نے کہا یعنی جو دوسرا تھا جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں تھا اس نے کہا کہ ایسے مریض بچ سکتے ہیں یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی دن کالج میں پروفیسر کا لیکچر سگ گزیدہ کی حالت پر تھا۔یعنی جس کو کتے نے کاٹا ہواس کی حالت پر تھا۔جب پروفیسر لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس مرض کا علاج دورہ