خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد 13 247 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء عام لوگ مانتے ہیں۔بیشک کئی ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنی انگریزی تعلیم کے ماتحت پہلے ہی اس امر کے قائل ہوں کہ جن کو ئی نہیں ہوتے لیکن مومن کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس کی عقل کیا کہتی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے؟ ( مومن کو اس طرح سوچنا چاہئے۔اگر قرآن کہتا ہے کہ جن ہوتے ہیں جس طرح کہ جنوں کا تصور عام لوگوں نے پیدا کیا ہوا ہے تو امَنَّا وَصَدّقنا اور اگر قرآن سے ثابت ہو کہ انسانوں کے علاوہ جن کوئی مخلوق نہیں تو پھر ہمیں یہ بات ماننی پڑتی ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 363) بہر حال مومن نے ہر صورت میں قرآن کی بات کو مانتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی عزت اور وقار قائم رکھنے کے لئے مجذوبوں اور پاگلوں پر بھی کس طرح بعض تصرف فرماتا ہے اس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ( پہلے بھی ہم کئی دفعہ سن چکے ہیں ) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ہی سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ لاہور تشریف لے گئے۔بعض دوستوں نے تحریک ( کی ) کہ شاہدرہ میں ایک مجذوب رہتا ہے اس کے پاس جانا چاہئے مگر بعض دوسرے دوستوں نے اس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ نہایت گندی گالیاں بکتا ہے اس کے پاس نہیں جانا چاہئے۔مگر جو جانے کے حق میں تھے انہوں نے کہا کہ آپ کو الہام ہوتا ہے۔دیکھنا چاہئے وہ کیا کہتا ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو جانچنے کے لئے ان کو ایک ہی معیار نظر آیا کہ اس کے پاس جایا جائے۔تو ) آپ خود بھی انکار کرتے رہے مگر دوست اصرار کر کے ایک دفعہ لے گئے۔آپ نے فرمایا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو وہ شخص گالیاں دیتے دیتے یکدم خاموش ہو گیا۔اس کے پاس ایک خربوزہ رکھا تھا۔اسے اٹھا کر میرے پیش کیا اور کہنے لگا یہ آپ کی نذر ہے۔تو بعض دیکھنے والے جو ظاہری باتوں کو دیکھتے ہیں وہ تو اس کے اور بھی معتقد ہو گئے۔مگر آپ نے فرمایا کہ وہ پاگل تھا۔تو بعض اوقات پاگل کو بھی ایسی باتیں نظر آ جاتی ہیں جو عقلمند نہیں دیکھ سکتے۔وہ چونکہ دنیا سے منقطع ہو چکا ہوتا ہے اس لحاظ سے اسے کسی وقت غیب کی باتیں نظر آ جاتی ہیں۔(ماخوذ از الفضل 28 جولائی 1938 صفحہ 4 جلد 26 نمبر (171) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور معجزات کے حوالے سے حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا ہے۔ان میں سے چند حوالے پیش کرتا ہوں۔ایک مشہور واقعہ پاگل کتے کے کاٹنے کا اور مریض کے شفایاب ہونے کا ہے۔اس کو حضرت مصلح موعود نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے سارے واقعات چونہ محفوظ نہیں اس لئے اس قسم کی زیادہ مثالیں