خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 246
خطبات مسرور جلد 13 246 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء ہے تو اس قسم کے وساوس بھی ان کے دل میں پیدا نہ ہوتے۔موسیٰ کا زمانہ تو بہت دُور کی بات ہے ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض ایسے نشان دکھائے ہیں جن میں کشفی نگاہ رکھنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو ظاہری شکل میں بھی متمثل دیکھا اور اس کے روحانی کیف سے لطف اندوز ہوئے۔چنانچہ 1904ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور تشریف لے گئے تو وہاں ایک جلسے میں آپ نے تقریر فرمائی۔ایک غیر احمدی دوست شیخ رحمت اللہ صاحب وکیل بھی اس تقریب میں موجود تھے۔وہ کہتے ہیں کہ دوران تقریر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سر سے نور کا ایک ستون نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔اس وقت میرے ساتھ ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں کہا دیکھو وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے دیکھا تو فوراً دوسرے دوست نے بھی کہا کہ یہ تو نور کا ستون ہے جو حضرت مرز اصاحب کے سر سے نکل کر آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اس نظارے کا شیخ رحمت اللہ صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 120، 121 ) یہ ایسے نشانات ہیں جن کو دیکھ کر لوگوں نے ایمان حاصل کیا۔اور پھر یہی نہیں بلکہ نشانات کی مختلف صورتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ لوگوں پر اب بھی ظاہر فرماتا چلا جارہا ہے۔جیسا کہ گزشتہ ایک جمعہ پہلے میں نے خطبے میں بعض تازہ واقعات بھی بیان کئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک مجلس کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں لکھا کہ میری ہمشیرہ کے پاس جن آتے ہیں۔(عام طور پر ہمارے ہاں بھی اور عربوں میں بھی یہ تصور ہے کہ جن چمٹ جاتے ہیں اور جنوں کو نکالنے کے لئے پھر جس بیچارے پے جن چمٹے ہوتے ہیں اس پر ظلم بڑا کیا جاتا ہے۔بعض لوگ تو جن نکالنے کے لئے اس شخص کو جس کو جن چمٹا ہو جان سے ماردیتے ہیں۔بہر حال کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عرض کی کہ میری ہمشیرہ کے پاس جن آتے ہیں اور وہ جن ایسے ہیں کہ ) وہ کہتے ہیں ہم آپ پر ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ) ایمان لانے کو تیار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں خط لکھا کہ آپ ان جنوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ ایک عورت کو کیوں ستاتے ہو؟ اگر ستانا ہی ہے تو مولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ صاحب کو جا کر ستائیں۔ایک غریب عورت کو تنگ کرنے سے کیا فائدہ؟ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایسے جن کوئی نہیں ہوتے جن کو