خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 245

خطبات مسرور جلد 13 245 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنی غیرت اور جوش رکھنے والے کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچا درجہ دیا ہوا ہے یا احمدیت کو اونچا درجہ سمجھتے ہیں۔پھر ایک واقعہ یہ ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کو کسی اعلیٰ مقام پر کھڑا کرتا ہے تو اس کی لوگوں کے بارے میں کس طرح راہنمائی کر دیتا ہے۔یہ واقعہ نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان ہے کہ کس طرح رہنمائی کرتا ہے اور کس طرح لوگوں کا اندرونہ بھی ان پر ظاہر کر دیتا ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ : جب انسان ایسے مقام پر کھڑا ہو جائے (یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے خود بلند مقام پر کھڑا کیا ہوتو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود درہنمائی ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کو ایسی مخفی ہدایت ملتی ہے جسے الہام بھی نہیں کہہ سکتے اور جس کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام سے جُدا امر ہے۔الہام تو ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ لفظی الہام نہیں ہوتا اور عدم الہام ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ عملی الہام ہوتا ہے اور انسانی قلب پر اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہوکر بتا دیتا ہے کہ معاملہ یوں ہے حالانکہ لفظوں میں یہ بات نہیں بتائی جاتی۔فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ جب اس سے بھی واضح رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات بتائی جاتی ہے تو اسے کشف کہہ دیتے ہیں۔( کشف بھی ہو جاتا ہے جب واضح طور پر ہو جائے۔) جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بہت سے آدمی جب میرے سامنے آتے ہیں تو ان کے اندر سے مجھے ایسی شعائیں نکلتی معلوم دیتی ہیں جن سے مجھے پتا لگ جاتا ہے کہ ان کے اندر یہ یہ عیب ہے یا یہ یہ خوبی ہے، مگر یہ اجازت نہیں ہوتی کہ انہیں اس عیب سے مطلع کیا جائے۔۔اللہ تعالی کی یہی سنت ہے کہ جب تک انسان اپنی فطرت کو آپ ظاہر نہیں کر دیتا وہ اسے مجرم قرار نہیں دیتا۔اس لئے اس سنت کے ماتحت انبیاء اور ان کے اظلال کا بھی یہی طریق ہے کہ وہ اس وقت تک کسی شخص کے اندرونی عیب کا کسی سے ذکر نہیں کرتے جب تک وہ اپنے عیب کو آپ ظاہر نہ کر دے۔(ماخوذ از الفضل 9 مارچ 1938 صفحہ 3 نمبر 55 جلد 26 ) اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کس طرح غیروں کو بھی نشان دکھاتا ہے۔اس بارے میں ایک واقعہ جو ایک غیر احمدی کے ساتھ ہوا ، بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ خیال کہ کسی انسان کے جسم سے ایسی شعائیں کس طرح نکل سکتی ہیں جو دوسروں کو بھی نظر آ جائیں صرف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اس نشان کو ظاہر پر محمول کر لیتے ہیں۔اگر وہ سمجھتے کہ یہ کشفی واقعہ