خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 235

خطبات مسرور جلد 13 235 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء تعالی کا فیضان بغیر توسط کسی عمل کے ہو تو وہ رحمانیت کی صفت سے ہوتا ہے۔جیسا کہ جو کچھ خدا نے زمین و آسمان وغیرہ انسان کے لئے بنائے یا خود انسان کو بنایا یہ سب فیض رحمانیت سے ظہور میں آیا۔لیکن جب کوئی فیض کسی عمل اور عبادت اور مجاہدہ اور ریاضت کے عوض میں ہو وہ رحیمیت کا فیض کہلاتا ہے۔“ فرمایا کہ ”یہی سنت اللہ بنی آدم کے لئے جاری ہے۔پس جبکہ انسان نماز اور یاد الہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لئے مستعد بناتا ہے۔سونطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ (رحیم خدا کی یعنی ) رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے۔اور جیسا کہ نطفہ کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جائے ایسا ہی روحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لئے یعنی حالت خشوع کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے۔پس بعض عبادتیں جو دکھاوے کی عبادتیں ہوتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے، رحیم خدا سے تعلق پیدا کرنے سے پہلے ہی برباد ہو جاتی ہیں۔فرمایا ”جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا“۔( یہ ساری چیزیں کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو رحیم ہے اس سے وہ تعلق پیدا نہیں ہوتا جو ہونا چاہئے ) اور نہ اس کی خاص تحلبی کے جذبہ سے اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں اس لئے ان کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں“۔(اب نبیوں کی بیعت میں آ کر پھر مرتد ہونے والے کئی ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی بعض تھے۔ڈاکٹر عبدالحکیم کا بھی ذکر آتا ہے۔سب کچھ ہونے کے باوجود، اپنی نیکیوں پر پہنچنے کے باوجود اگر پھسلا تو بالکل ہی دین سے بھی گیا۔) فرمایا ” پس یہ عجیب دلچسپ مطابقت ہے کہ جیسا کہ نطفہ جسمانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحم کی کشش اس کی دستگیری نہ کرے وہ کچھ چیز ہی نہیں۔ایسا ہی حالت خشوع روحانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحیم خدا کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ حالت خشوع کچھ بھی چیز نہیں“۔اللہ تعالیٰ کی مدد ہو گی ، اس تک پہنچے گا، رحیم خدا سے تعلق پیدا ہوگا تو وہ خشوع کامیاب رہے گا۔نہیں تو صرف ظاہری رونا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ جی ہم بڑے روئے ، بڑے چلائے ، دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔لیکن اپنی حالتوں کا