خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد 13 234 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء صَلَاتِهِمْ خُشِعُونَ۔یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نمازوں میں اور ہر ایک طور کی یاد الہی میں ( صرف نماز ہی نہیں بلکہ ہر ایک طور کی یاد الہی میں ” فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں۔اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 188) پس نماز میں گداز رہنے والا ، خشوع کرنے والا ، دوسری قسم کی یاد الہی میں بھی یہی نقشہ اپنے پر طاری رکھتا ہے جو نماز میں ہوتا ہے۔جس کی وضاحت میں پہلے لغوی معنوں میں کر آیا ہوں جو خشوع کے لغوی معنے بیان کئے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر ایک طور کی یا دالہی میں فروتنی اختیار کرتے ہیں اور آدمی چلتے پھرتے بھی یاد الہی کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت بھی عاجزی ہوتی ہے۔اور جب ہر ایک طور کی یا دالبی ہو تو ہر عمل چاہے وہ روز مرہ کے معاملات کا ہو خدا تعالیٰ کی یادکوسامنے رکھتے ہوئے ،اس کے احکام کی یاد دلاتے ہوئے عجز اور خوف کی حالت پیدا کئے رکھتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : وہ لوگ جو قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لئے ایک نطفہ ہے اور نطفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قومی اور صفات اور تمام نقش و نگار اس میں مخفی ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 189) یہاں جیسا کہ میں نے کہا تھا انسانی پیدائش کے دوروں سے مثال دی ہے تو یہ اب اس کی مثال بیان ہو رہی ہے۔جس طرح نطفہ رحم میں جا کر بچہ بن کر پیدا ہوتا ہے اور پھر تمام خصوصیات والا ایک کامل انسان بن جاتا ہے۔اسی طرح خشوع روحانی ترقی کے مدارج طے کرواتا ہوا روحانی لحاظ سے انسان کو مکمل کر دیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : دو اور جیسا کہ نطفہ اُس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے۔( یعنی اس وقت تک ضائع ہونے کا خطرہ ہے جب تک رحم میں چلا نہیں جاتا جہاں آگے اس کی اللہ تعالیٰ کی قانون قدرت کے مطابق بڑھوتری ہوئی ہے۔فرمایا: ” ایسا ہی روحانی وجود کی یہ ابتدائی حالت یعنی خشوع کی حالت اُس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑ لے۔یادر ہے کہ جب خدا