خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 236
خطبات مسرور جلد 13 236 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ باقی چیزیں بھی پوری ہو رہی ہیں کہ نہیں۔فرمایا کہ اسی لئے ہزار ہا ایسے لوگوں کو پاؤ گے کہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں یاد الہی اور نماز میں حالت خشوع سے لذت اٹھاتے اور وجد کرتے اور روتے تھے اور پھر کسی ایسی لعنت نے اُن کو پکڑ لیا کہ یک مرتبہ نفسانی امور کی طرف گر گئے اور دنیا اور دنیا کی خواہشوں کے جذبات سے وہ تمام حالت کھو بیٹھے۔یہ نہایت خوف کا مقام ہے کہ اکثر وہ حالت خشوع رحیمیت کے تعلق سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے اور قبل اس کے کہ رحیم خدا کی کشش اس میں کچھ کام کرے وہ حالت بر باد اور نابود ہو جاتی ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 189-190) پس کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس کی عبادتیں خشوع کے اعلیٰ معیار پر پہنچ گئی ہیں۔خشوع جیسا کہ میں نے پہلے بھی وضاحت کی ہے ان تمام جزئیات پر مشتمل ہے جو اس کے مضمون میں معنی میں میں وضاحت سے بیان کر چکا ہوں۔جب یہ جزئیات تمام تر عاجزی اور انکسار سے ادا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی رحیمیت پھر انہیں پھل لگاتی ہے۔یہ مثال جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے اس میں انسان کو نہیں پتا کہ رحیم خدا کی رحیمیت نے کب اس کو قبول کر کے پھل لگانا ہے۔پس ایک مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔جس طرح ظاہری طور پر پتا نہیں ہوتا کہ کب fertilization ہونی ہے اور کب بچہ پیدا ہونا ہے۔بچے نے بننا شروع ہونا ہے اور پھر جس طرح بعض دفعہ رحم میں جا کر بھی نطفے میں بعض نقائص پیدا ہو جاتے ہیں، نطفہ ان کا حامل ہو جاتا ہے۔اس موقع پر مسجد کے اندر کسی کے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی جس پر حضور انور نے فرمایا : جس کا فون چل رہا ہے اپنا فون بند کریں اور مسجد میں بند کر کے آیا کریں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا اور نطفے کی جو مثال دی تھی کہ جس طرح نطفہ رحم میں جا کر نقائص کا حامل ہو جاتا ہے ایسا ہی بعض دفعہ انسان کا ایک دفعہ کا خشوع اس کو اگر پھل لگا بھی دے گا اور یا پھل لگا دیتا ہے تو پھر اس میں بعض دفعہ خناس پیدا ہو جاتا ہے، اپنی بڑائی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ انبیاء کو قبول کر کے پھر چھوڑ دینے والوں کی حالت ہوتی ہے۔تو یہ بڑائی اور تکبر ہی ہوتا ہے جو پھر ان کو ان نیکیوں سے چھڑوا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک خدا تعالیٰ کے فرستادے سے تعلق رہے اور جہاں وہ تعلق چھوڑ اوہاں ذلت کے اور گمراہی کے کنوئیں میں گر گئے۔پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا خوف پیش نظر رہنا چاہئے۔اس کی رحیمیت کے حصول کے لئے کوشش رہنی چاہئے۔اس کے فضلوں کو طلب کرتے رہنا