خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 217

خطبات مسرور جلد 13 217 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء کے پاس یہ تصاویر اور کتب تھیں۔وہ یہاں بیمار ہوئے اور یہیں فوت ہو گئے۔آج اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہمارے پاس لے آیا جس کی تبلیغ ہمارا بھائی کیا کرتا تھا۔ہم سب گاؤں والے بیعت کرتے ہیں۔اس دن اللہ کے فضل سے ایک ہزار کے قریب لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔بارش کا نشان پھر مالی کے ریجن جیما (Djema) سے وہاں کے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن ہمارے ریجن کے ایک احمدی عبدالسلام تر اوڑے صاحب اپنے قریبی گاؤں میں گئے تو وہاں موجود گاؤں والوں نے ان سے کہا کہ کافی عرصے سے یہاں بارش نہیں ہو رہی۔اگر آپ کی جماعت سچی جماعت ہے تو آپ دعا کریں کہ بارش ہو اور اگر بارش ہو گئی تو ہم سمجھیں گے کہ واقعی آپ کی جماعت سچی جماعت ہے اور خدا کی مدد آپ کے ساتھ ہے۔اس پر مکرم عبد السلام نے نوافل پڑھے۔گڑگڑا کر دعا کی کہ اے اللہ ! اپنے مہدی کی سچائی کے لئے آج ہی یہاں بارش نازل فرما۔یہ جو معلم ہیں یہ و ہیں مالی کے مقامی رہنے والے ہیں۔انہوں نے دعا کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا نشان دکھا۔اور کہتے ہیں کہ اس دعا کے بعد وہاں بادل جمع ہونا شروع ہوئے اور اس قدر شدید بارش ہوئی کہ ہر طرف پانی جمع ہو گیا۔اس کے کچھ دیر بعد لوگ عبدالسلام صاحب کے پاس آئے اور بتایا کہ ہمیں پتا لگ گیا ہے کہ جماعت احمد یہ واقعی سچی اور خدائی جماعت ہے اور اس طرح سارا گاؤں بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گیا۔دیکھیں کس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے نشان دکھاتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ نشان دکھائے جائیں لیکن ان لوگوں کی نیک فطرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ ان کو ہدایت دے۔اس لئے وہ نشان ظاہر بھی ہو گئے۔غانا کے مبلغ ہمارے یوسف ایڈ وسئی صاحب لوکل مشنری تھے، وہ وفات پاگئے ہیں۔انہوں نے اپنا ایک واقعہ لکھا کہ لامبونا (Lambuna) ایک جگہ ہے ، وہاں کے مقامی لوگوں نے ہمارے ایک داعی الی اللہ عبداللہ صاحب کو تبلیغ کے دوران بارش کے لئے دعا کرنے کے لئے کہا۔جس پر انہوں نے اعلان کیا کہ کیونکہ وہ امام مہدی کے پیغام کو پہنچانے کے لئے تبلیغ کر رہے ہیں اس لئے ان کی دعا قبول ہو گی اور رات کو بارش ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی رات ایک بجے اس علاقے میں موسلا دھار بارش ہوئی اور قبولیت دعا کے اس نشان کو دیکھتے ہوئے اس علاقے سے ایک بڑی تعداد کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔پھر آئیوری کوسٹ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نومبائعہ فاطمہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد انہیں حقیقی اطمینان اور راحت نصیب ہوئی ہے۔احمدیت نے انہیں حقیقی اسلام