خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 216
خطبات مسرور جلد 13 216 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء غریب ہیں لیکن ایمان کے جذبے سے سرشار ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں کے مناسب حال انہوں نے وہاں ایک سچی مسجد بھی بنادی ہے اور چندہ کے نظام میں بھی سب شامل ہیں۔اسی طرح مالی کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ تیجانیہ فرقہ کے ایک بڑے امام آدم تنگا را صاحب نے بیعت کی۔انہوں نے بیعت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے جماعت کی کیسٹس اور ریڈیو سن رہے تھے۔مالی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کافی ریڈیو سٹیشن ہیں۔اور ان کا دائرہ ستر اتی میل تک ہے۔ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ہے۔اللہ کے فضل سے کافی پھیلا ہوا ہے، وسیع پیمانے پر تبلیغ ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ ان کے ( یعنی جو آدم صاحب تھے، ) والد مرحوم فرقہ تیجانیہ کے بڑے امام تھے اور انہوں نے اس علاقے کے 93 مشرک دیہاتوں کو مسلمان کیا تھا۔ایک رات ان آدم صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ان کے والد کہتے ہیں کہ احمدیت ہی سچا راستہ ہے اور وہ ( یعنی ان کا بیٹا ) احمدیت کے پیغام کو پھیلانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کرے۔تو اس کے بعد یہ ہمارے معلم کو ملے۔معلم صاحب کے ساتھ تبلیغ کے لئے ایک گاؤں میں گئے۔اس گاؤں کے لوگ پہلے مشرک تھے اور ان کے والد صاحب کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے۔چنانچہ اس گاؤں کے امام جن کی عمر اس وقت ستاسی سال ہے وہ آدم صاحب کے والد صاحب کے گہرے دوست تھے۔جب ان سے ملے تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے ریڈیو پر جماعت کی تبلیغ سنی ہے۔یقیناً احمدیت ہی سچا راستہ ہے۔نیز انہوں نے آدم تنگارا صاحب کو نصیحت کی کہ وہ اس پیغام کو پھیلانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کریں اور اس امام نے بھی وہی الفاظ کہے جو ان کے والد نے خواب میں کہے تھے یعنی والد کے دوست کے ذریعہ سے وہی الفاظ ان کو کہلوا دیئے گئے۔اس رات انہوں نے تبلیغ کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین ہزار چارسو بیعتیں وہاں ہو گئیں۔پھر ایک اور گاؤں سگر الہ ڈاکا (Sagrala Daka) میں تبلیغ کے لئے گئے۔وہاں لوگ جمع ہو گئے تو انہیں تبلیغ کی۔کچھ دیر کے بعد کچھ لوگ اٹھ کر گئے۔ان کا خیال تھا کہ وہاں کوئی احمدی نہیں لیکن ہوا یہ کہ کچھ لوگ اٹھ کے گئے اور گھر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور میری کچھ تصویریں لے کر آئے اور کچھ پمفلٹ لے کر آئے اور انہیں بتایا کہ جب آپ نے تبلیغ شروع کی تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ وہی جماعت ہے جس کا ذکر ہمارے مرحوم بھائی کیا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک بھائی گا ؤسو فوفانا(Gaousso Fofana) صاحب گھانا میں گئے تھے۔انہوں نے احمدیت قبول کی۔بعد میں پھر وہ وہیں برکینا فاسو کے شہر بو بوجلا سو میں سیٹ ہو گئے۔2010ء میں وہ ہمیں ملنے کے لئے آئے تو ان