خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد 13 196 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔یہ عزیزم احمد یحیی باجوہ ابن مکرم نعیم احمد باجوہ صاحب جرمنی کا ہے۔یہ جامعہ احمدیہ کے طالبعلم تھے۔11 مارچ 2015ء کو ایک حادثے میں 27 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ جامعہ میں پہلے داخل ہوئے پھر کچھ بیماری کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی اور چلے گئے۔پھر دو سال بعد دوبارہ انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں نے داخل ہوتا ہے۔اس لئے زیادہ عمر کے باوجود بھی ان کو داخلہ دے دیا گیا۔اب یہ رابعہ میں تھے اور بڑے ہونہار اور عاجز اور وقف کی حقیقی روح رکھنے والے طالبعلم تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا پیار اوجود تھے۔اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھانے کا ان کا بڑا اچھا انداز تھا۔ان کے جواکثر کلاس فیلو ہیں، نئے پرانے سب کے مجھے خط آئے ہیں ہر ایک نے ان کی تعریف کی ہے اور یہی مشترک چیز ہے کہ انتہائی عاجزی کبھی کسی سے لڑائی نہیں کرنی۔لڑ رہے ہوں تو ان کو سمجھانا، اصلاح کی کوشش کرنا بلکہ جامعہ کے ایک سٹاف ممبر ( جو دوسرے کارکن تھے۔ٹیچنگ سٹاف نہیں۔اساتذہ میں سے نہیں بلکہ عام جو عملہ تھا اس میں سے ایک صاحب) کو سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔ایسے انداز سے انہوں نے ان سے بات کی کہ ان کی کوشش سے انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی۔اور یہ ہر لحاظ سے بڑے پیار سے سمجھانے والے تھے۔اور ہر ایک سے ان کا ایک پیار اور محبت کا تعلق تھا۔بڑی دوستی کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا ابھی میں انشاء اللہ ان کا نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 10 اپریل 2015 ء تا 16 اپریل 2015 ءجلد 22 شمارہ 15 صفحہ 05 تا09)