خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 195

خطبات مسرور جلد 13 195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء کم سنی کے، چھوٹی عمر کے میں دیوانہ وار ان بھیانک کھنڈرات میں نکل جایا کرتا اور پکار پکار کر اور بعض اوقات رورو کر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اس مقدس وجود کے پانے کے لئے التجائیں کیا کرتا تھا۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 9 صفحہ 11 تا 13 روایت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) آخر اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کو قبول کیا اور قبولیت کی توفیق پائی۔ابھی اور بھی واقعات ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی جن کا نام حضرت شیخ نصیر الدین صاحب ہے 1858ء میں مکند پور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ایک خواب کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن سکون قلب حاصل نہ تھا۔مسجدوں میں علماء سے احوال آخرت پیشگوئیوں کی مشہور کتاب سنتے تو دل گواہی دیتا کہ آنے والے کا وقت تو یہی معلوم ہوتا ہے لیکن امام مہدی کا ظہور کیوں نہیں ہو رہا۔اسی طرح ایک دن ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ایک مولوی صاحب بڑی پریشانی کے عالم میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر سورج اور چاند گرہن کا ذکر کر کر کے کہہ رہے تھے کہ اب تو لوگوں نے مرزا صاحب کو مان لینا ہے کیونکہ پیشگوئی کے مطابق گرہن تو لگ چکا ہے۔آپ کے ( یعنی مولوی شیخ نصیر الدین صاحب کے ) کان میں یہ آواز پڑی تو پریشانی اور بڑھی کہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ اگر پیشگوئی پوری ہوگئی ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے۔چنانچہ آپ نے بڑی آہ وزاری سے دعائیں شروع کر دیں کہ مولیٰ کریم تو ہی میری رہنمائی فرما۔اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑی بلا آپ پر حملہ کرتی ہے لیکن آپ نے بندوق سے اس پر فائر کیا اور وہ دھوئیں کی طرح غائب ہو گئی۔پھر آپ ایک اونچی جگہ مسجد میں نماز با جماعت میں شامل ہو گئے۔یہ خواب آپ نے ایک مولوی صاحب سے بیان کی۔اس نے تعبیر بتائی کہ آپ اپنے شیطان پر غلبہ حاصل کر لیں گے اور ایک صالح جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔اسی دوران آپ نے حضرت مسیح موعود کے دعوے کے بارے میں سنا اور قادیان پہنچ کر اپنے خواب کی طرح صورتحال دیکھ کر بلا چون و چرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔اس طرح سورج چاند گرہن کی پیشگوئی (اور مولوی کی وہ باتیں ) آپ کی رہنمائی کے لئے اہم محرک ثابت ہوئیں۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت ضلع راولپنڈی۔مرتبہ خواجہ منظور صادق صاحب صفحہ 164،163) اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی اور آجکل کے جو مسلمان ہیں ان کو بھی عقل دے اور بجائے زمانے کے امام کی مخالفت کرنے کے آپ کو ان کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔