خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد 13 182 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء گرہن لگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے نشان ہے مخصوص تو نہیں کیا جا سکتا۔لیکن یہ گرہن اُس طرف تو جہ ضرور پھیرتا ہے جو گر بہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوا۔اور پھر آج اس دن کا گرہن اس لحاظ سے بھی اُس نشان کی طرف توجہ پھیرنے کا باعث ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے بھی ایک خاص نسبت ہے۔پھر مارچ کا مہینہ ہونے کی وجہ سے بھی توجہ ہوتی ہے کیونکہ تین دن بعد اسی مہینہ کو 23 مارچ کو یوم مسیح موعود بھی ہے۔دعوئی بھی ہوا۔گویا یہ مہینہ، یہ دن اور یہ گرہن مختلف پہلوؤں سے جماعت کی تاریخ کو یاد کروانے والے ہیں۔اس لئے میں نے جب نماز کسوف کے خطبے کے لئے حوالے لئے تو خیال آیا کہ جمعہ کے خطبے میں بھی گرہن کے حوالے سے ہی بات کروں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چاند سورج گرہن کی پیشگوئی (جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی) کے بارے میں آپ کے اقتباسات پیش کروں یا ایک آدھ اقتباس پیش کروں۔اور اسی طرح صحابہ کے چند واقعات بھی جنہوں نے اس گرہن کو دیکھ کر سلسلے میں شمولیت اختیار کی اور اپنے ایمان کو صیقل کیا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گرہنوں کو خاص طور پر بڑی اہمیت دی ہے۔اسی لئے جب ایک دفعہ آپ کی زندگی میں گرہن لگا تو اس حوالے سے بہت سی احادیث ہیں۔تو پہلے ایک حدیث میں سامنے رکھتا ہوں۔حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی ہیں۔میں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ہے اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔حضرت عائشہ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشان ہے؟ انہوں نے سر ہلا کر اشارے سے کہا: ہاں۔اسماء کہتی ہیں کہ میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔( یعنی نماز اتنی لمبی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی۔) کہتی ہیں مجھے غشی طاری ہونے لگی تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جسے میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا مگر اپنی اس جگہ پر کھڑے کھڑے اسے دیکھ لیا۔یہاں تک کہ جنت اور آگ کو بھی۔اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب۔پھر فرمایا تم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا۔اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص