خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 180

خطبات مسرور جلد 13 180 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء موعود علیہ السلام کے دل میں تھی۔اگر کوئی محسوس کرتا ہے کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اور اسلام کو پھیلانے کی تڑپ ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ محض ایک چنگاری ہے اس آگ کی جو حضور علیہ السلام کے دل میں تھی۔پس ہماری تمام کوششیں اسی نقطہ پر گھومنی چاہئیں اور اسی میں محصور ہونی چاہئیں۔لیکن اگر ہم اس بات کو نہیں سمجھ سکتے تو جو کام ہم کریں گے وہ گو بظاہر تو حید ہوگا مگر دراصل وہ کسی شرک کا پیش خیمہ ہو گا۔(الفضل قادیان مورخہ 18 مئی 1943ء صفحہ 3 جلد 31 نمبر 117 ) توحید بھی ہو لیکن شرک کا پیش خیمہ بھی ہو، یہ کس طرح ہوتا ہے؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے ایک واقعہ پیش فرمایا۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک صاحب یہاں پڑھا کرتے تھے۔وہ روزانہ یہ بحث کیا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب تھے۔ان کے سر پر رومی ٹو پی تھی۔ایک دن ایک شخص نے اسے بلایا اور کہا کہ کیا تم مجھتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا۔اس شخص نے بغیر کوئی شرم محسوس کئے ہوئے کہہ دیا ہاں ضرور ہوا۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ وحدانیت تک جاتے ہیں احدیت تک نہیں پہنچتے۔(اب یہ دو چیزیں سمجھنے والی ہیں۔وحدانیت اور احدیت۔کہ وحدانیت تک تو جاتے ہیں اور احدیت تک نہیں پہنچتے ) جس پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک انسان بھی ایک حد تک خالق ہے، رازق ہے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ الگ ہے اور مخلوق الگ ہے۔دونوں میں کوئی اتحاد ذاتی ہر گز نہیں۔نہ ہوسکتا ہے۔الفضل قادیان مورخہ 18 مئی 1943 ، صفحہ 3 جلد 31 نمبر 117 ) واحد اور اُحد کی لغت کے حوالے سے مختصر وضاحت کر دیتا ہوں تا کہ سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔اللہ تعالیٰ واحد بھی ہے اور احد بھی ہے۔وحدانیت سے مراد صفات میں واحد ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ایک حد تک انسان پر تو ہو سکتا ہے اور اس کی اعلیٰ ترین مثال جو کسی انسان میں آ سکتی ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔لیکن صفات میں کامل تو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔اور حد سے مراد اللہ تعالیٰ کا اکیلا ہونا ہے اور احد کے مقابلے پر دوسری کسی چیز کا تصور بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔پس جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ حقیقی تو حید اس وقت قائم ہوگی جب احدیت کی حقیقت کو ہم سمجھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد کو پورا کرتے ہوئے حقیقی توحید کے قائم کرنے والے ہوں۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 03 اپریل 2015 ء تا 109 اپریل 2015 ءجلد 22 شمارہ 14 صفحہ 05 تا08)