خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد 13 179 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء انہوں نے مولویوں کو ان کی بیوقوفی جتانے کے لئے وفات مسیح کا مسئلہ پیش کر دیا اور قرآن سے اس کے متعلق ثبوت دینے لگ گئے۔(حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ ) اب مولوی چاہے سارا زور لگالیں، چاہے ان کی زبانیں گھس جائیں اور قلمیں ٹوٹ جائیں ، سارے ہندوستان کے مولوی مل کر بھی مرزا صاحب کے دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مرزا صاحب نے انہیں ایسا پکڑا ہے کہ ان میں سر اٹھانے کی تاب نہیں رہی۔حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ ) اب اس کا ایک ہی علاج ہے۔(ویسے تو وفات مسیح کا مسئلہ کوئی نہیں۔حیات مسیح قائم ہے لیکن مولویوں کوٹھیک کرنے کا یعنی اس مسئلے، جھگڑے کو دور کرنے کا ایک ہی علاج ہے ) اور وہ یہ کہ سارے مولوی مل کر ایک وفد کی صورت میں حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بے ادبی ہوگئی ہے۔ہمیں معاف کیا جائے۔پھر دیکھیں مرزا صاحب قرآن سے ہی حیات مسیح ثابت کر کے دکھاتے ہیں یا نہیں۔( تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 108،107) یہ بھی انہوں نے خوب من پسند تشریح کی ہے۔اب دیکھیں کہ باوجود عقیدت ہونے کے ان میں حیات مسیح کا مسئلہ اتنازیادہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں نہیں آ سکے لیکن عقیدت رکھتے تھے۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس پر ہو کہ اس کو زمانے کے امام کو حقیقت میں ماننے کی بھی توفیق ملتی ہے۔ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وفات مسیح کا مسئلہ کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ توحید کے قیام کے لئے انتہائی ضروری ہے اور حضرت مسیح موعود نے آکر اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا تھا۔چنانچہ اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو ثابت کر کے توحید کامل کے رستہ میں جو روک تھی اسے دور کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ اس مسئلہ پر بہت زور دیتے تھے۔رات دن یہی ذکر فرماتے رہتے تھے۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) مجھے یاد ہے ایک دفعہ کسی نے کہا کہ حضور اس مسئلہ کو اب چھوڑ بھی دیں۔تو حضور کو جلال آ گیا اور فرمایا کہ مجھے تو بعض اوقات اس کے متعلق اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں شاید جنون نہ ہو جائے۔اس مسئلے نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور ہم جب تک اسے پیس نہ ڈالیں گے آرام کا سانس نہیں لے سکتے۔اب بھی بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔مگر یہ احدیت کے رستے میں روکیں ہیں جنہیں دُور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قدر جوش تھا۔اور یہی وہ جوش تھا جس نے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچا اور صداقت کے لئے بنیاد قائم کر دی۔اور ہم میں سے ہر ایک جسے اسلام سے محبت ہے سمجھ سکتا ہے کہ یہ محض ایک چنگاری ہے اس آگ کی جو حضرت مسیح